الموضوع المختار منتخب موضوع
مجموع الصفحات: 8 مجموع أحاديث: 76 - کل احا دیث: 76 - کل صفحات: 8
‌صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ (بَابٌ)
1. حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» ...
صحیح بخاری: کتاب: وحی کے بیان میں (باب: (وحی کی ابتداء میں؟))
1. حضرت علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو منبر پر یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: "اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو اس کی نیت ہی کے مطابق پھل ملے گا، پھر جس شخص نے دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے وطن چھوڑا تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔"...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ الجِهَادِ مِنَ الإِيمَانِ)
36. حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، أَوْ أُدْخِلَهُ الجَنَّةَ، وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ»...
صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:جہاد ایمان سے ہے)
36. ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے ذمے داری لیتا ہے جو اس کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ اسے گھر سے صرف اس بات نے نکالا کہ وہ مجھ (اللہ) پر ایمان رکھتا ہے اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتا ہے، تو میں اسے اس ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کروں گا جو اس نے جہاد میں پایا، یا اسے (شہید بنا کر) جنت میں داخل کروں گا۔ اور (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ) اگر میں اپنی امت کے لیے اسے دشوار نہ سمجھتا تو کبھی چھوٹے سے چھوٹے لشکر سے بھی پیچھے نہ بیٹھ رہتا۔ اور میری یہ آرزو ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: مَا جَاءَ إِنَّ الأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَ...)
54. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لدُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»...
صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:بغیر خالص نیت کے عمل صحیح نہیں)
54. حضرت عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ ہر انسان کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی۔ اگر کوئی اپنا وطن اللہ اور اس کے رسول کے لیے چھوڑتا ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی۔ اگر کسی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔"...
‌صحيح البخاري: کِتَابُ المُحْصَرِ (بَابٌ: الإِطْعَامُ فِي الفِدْيَةِ نِصْفُ صَاعٍ)
1834. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْفِدْيَةِ فَقَالَ نَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ مَا كُنْتُ أُرَى الْوَجَعَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى أَوْ مَا كُنْتُ أُرَى الْجَهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى تَجِدُ شَاةً فَقُلْتُ لَا فَقَالَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ...
صحیح بخاری: کتاب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں (باب : فدیہ میں ہر فقیر کو آدھا صاع غلہ دینا۔)
1834. حضرت عبد اللہ بن معقل سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا اور ان سے فدیے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: مذکورہ (فدیے والی)آیت کریمہ میرے حق میں خاص طور پر نازل ہوئی، البتہ اس کا حکم تمھارے لیے عام ہے۔ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس حالت میں لایا گیا کہ جو ئیں میرے چہرےپر گر رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے یقین نہیں تھا کہ تمھاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہوگی۔ کیا تجھے بکری مل جائے گی؟میں نے عرض کیا: نہیں!آپ نے فرمایا: "تین دن کے روزے رکھویا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ، ہر مساکین کو نصف صاع دو۔ "...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرَّهْنِ (بَابُ رَهْنِ السِّلاَحِ)
2529. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا، وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ، فَقَالَ: ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ العَرَبِ؟ قَالَ: فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا، فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ، فَيُقَا...
صحیح بخاری: کتاب: رہن کے بیان میں (باب : ہتھیار گروی رکھنا)
2529. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے کون اٹھتا ہے؟کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے۔ "حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اسے میں قتل کرں گا، چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور کہاکہ ہم ایک یا دو وسق غلہ قرض لینا چاہتے ہیں۔ کعب بن اشرف نے کہا: تم اپنی بیویاں میرے پاس گروی رکھ دو۔ انھوں نے جواب دیا: ہم اپنی بیویاں تیرے پاس گروی کیسے رکھ سکتے ہیں جبکہ تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟اس نے کہا: اپنے بیٹوں کو رہن رکھ دو۔ انھوں نےکہا: ہم اپنے بی...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوَصَايَا (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَآتُوا اليَتَامَى ...)
2783. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي اليَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 3]، قَالَتْ: هِيَ اليَتِيمَةُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا، وَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ نِسَائِهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ، إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ ...
صحیح بخاری: کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان (باب : سورۃ نساءمیں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اور ...)
2783. حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس آیت کریمہ کے متعلق سوا ل کیا: "اوراگر تمھیں خطرہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے متعلق تم انصاف نہیں کرسکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے نکاح کرلو جو تمھیں پسند ہوں۔ "حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: یتیم لڑکی اپنے سرپرست کی پرورش میں ہوتی تھی اور وہ اس کے حسن وجمال اور مال ومتاع میں رغبت کرتا لیکن وہ چاہتا کہ اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر سے کم مہر کے عوض اس سے نکاح کرلے، اس لیے انھیں ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے سے روک دیا گیا مگر اس صورت میں کہ ان کے حق مہر کی ...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوَصَايَا (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:)
2787. وَقَالَ لَنَا سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: مَا رَدَّ ابْنُ عُمَرَ عَلَى أَحَدٍ وَصِيَّةً وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ أَحَبَّ الأَشْيَاءِ إِلَيْهِ فِي مَالِ اليَتِيمِ أَنْ يَجْتَمِعَ إِلَيْهِ نُصَحَاؤُهُ وَأَوْلِيَاؤُهُ، فَيَنْظُرُوا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ لَهُ وَكَانَ طَاوُسٌ: إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ اليَتَامَى قَرَأَ {وَاللَّهُ يَعْلَمُ المُفْسِدَ مِنَ المُصْلِحِ} [البقرة: 220] وَقَالَ عَطَاءٌ فِي يَتَامَى الصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ: «يُنْفِقُ الوَلِيُّ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ بِقَدْرِهِ مِنْ حِصَّتِهِ»...
صحیح بخاری: کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان (باب : سورۃ نساء میں اللہ کا یہ ارشاد کہ اور یتیموں...)
2787. حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی کسی کی وصیت کو مسترد نہیں کرتے تھے۔ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال کے متعلق میرے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ اس کے مخلص خیر خواہ اور سر پرست جمع ہو جائیں اور غور کریں کہ یتیم کی بہتری کس چیز میں ہے۔ حضرت طاؤس سے اگر یتیموں کے کسی معاملے کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ یہ آیت پڑھتے۔ "اللہ تعالیٰ فسادی اور خیر خواہ کو خوب جانتا ہے۔ "حضرت عطاء چھوٹے بڑے یتیم کے متعلق فرماتے ہیں کہ سر پرست ہر ایک پر اس کے حصے کے مطابق خرچ کرے۔ ...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ دَرَجَاتِ المُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ...)
2810. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلاَةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الجَنَّةَ، جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ نُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: «إِنَّ فِي الجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ الس...
صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان (باب : مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان)
2810. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے، نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ کے ذمے حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے، خواہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے یا اپنی جائے پیدائش میں بیٹھا رہے۔ "صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: اللہ کےرسول ﷺ !کیا ہم لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دے دیں؟آپ نے فرمایا: "بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں۔ ان کے دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے مابین ہے، لہذا جب تم اللہ تعالیٰ...
مجموع الصفحات: 8 مجموع أحاديث: 76 - کل احا دیث: 76 - کل صفحات: 8