الموضوع المختار منتخب موضوع
مجموع الصفحات: 9 مجموع أحاديث: 90 - کل احا دیث: 90 - کل صفحات: 9
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ)
18. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ العَقَبَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: «بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَ...
صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:)
18. حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا بیان ہے، اور یہ بدری صحابی اور عقبہ والی رات کے نقباء میں سے ایک نقیب ہیں، رسول اللہ ﷺ نے، جب کہ آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی، فرمایا: "تم سب مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے۔ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے سامنے (دیدہ دانستہ) کسی پر افترا پردازی نہیں کرو گے اور اچھے کاموں میں نافرمانی نہ کرو گے۔ پھر جو کوئی تم میں سے یہ عہد پورا کرے گا، اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان گناہوں میں سے کچھ کر بیٹھے اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل جائے تو ا...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ عَلاَمَةِ المُنَافِقِ)
34. حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ تَابَعَهُ شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ...
صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: منافق کی نشانیوں کے بیان میں)
34. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"چار باتیں جس میں ہوں گی وہ تو خالص منافق ہو گا اور جس میں ان میں سے کوئی ایک بھی ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے ترک کر دے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب عہد کرے تو دغا بازی کرے اور جھگڑے تو بے ہودہ بکواس کرے۔" اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کرنے میں (سفیان کی) متابعت کی ہے۔...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابُ التِّجَارَةِ فِي البَرِّ)
2079. حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَا كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأ...
صحیح بخاری: کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان (باب : خشکی میں تجارت کرنے کا بیان)
2079. حضرت ابو منہال سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں کرنسی کا کاروبار کرتاتھا۔ میں نے اس کے متعلق حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ایک دوسری سندکے مطابق حضرت ابو منہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کرنسی کے کاروبار کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تجارت کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیع صرف یعنی کرنسی کے کاروبار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: "اگر نقد بنقد ہوتو کوئی حرج نہیں، اگر ادھار ہوتو جائز نہیں۔ "...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابُ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْف...)
2082. حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَتْ عِيرٌ وَنَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ فَانْفَضَّ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا...
صحیح بخاری: کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان (باب : ( سورۃ جمعہ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جب...)
2082. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ نماز جمعہ ادا کررہے تھے کہ غلے کا ایک قافلہ آیا۔ لوگ اس کی طرف چل دیے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بارہ مردوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص باقی نہ رہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: " جب انھوں نے کوئی تجارت یاکھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیا۔ "...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابُ ذِكْرِ الخَيَّاطِ)
2110. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيْ الْقَصْعَةِ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ...
صحیح بخاری: کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان (باب : درزی کا بیان)
2110. حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کوکھانے کی دعوت دی جو اس نے خود تیار کیاتھا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا: میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ گیا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے روٹی، کدو کا شوربا اور سوکھا گوشت رکھا۔ میں نے نبی ﷺ کو پیالے کے ادھر اُدھر سے کدوکو ڈھونڈتےدیکھا اس بنا پر میں اس دن سے کدو کو بہت پسند کرتا ہوں۔ ...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ (بَابُ قِصَاصِ المَظَالِمِ)
2459. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا وَقَالَ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ...
صحیح بخاری: کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں (باب : ظلموں کا بدلہ کس کس طور پر لیا جائے گا)
2459. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جب اہل ایمان آگ سے خلاصی پالیں گے توانھیں دوزخ اور جنت کے درمیان ایک پُل پر روک لیا جائے گا۔ وہاں ان سے ان کے مظالم کابدلہ لیاجائے گاجو انھوں نے دنیا میں ایک دوسرے پر کیے تھے۔ جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تو پھر انہیں جنت کے اندر جانے کی اجازت ملے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے!ہر شخص جنت میں اپنے ٹھکانے کو اس سے بہتر طور پر پہچانے گاجس طرح وہ دنیا میں اپنے مسکن کو پہچانتا تھا۔ " یونس بن محمد نے کہا: ہمیں شیبان نے قتادہ سے خبر دی، انھوں نے کہا:...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّهَادَاتِ (بَابٌ: إِذَا زَكَّى رَجُلٌ رَجُلًا كَفَاهُ)
2682. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ» مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لاَ مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ»...
صحیح بخاری: کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان (باب : جب ایک مرددوسرے مرد کو اچھا کہے تو یہ کافی ہ...)
2682. حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے پاس کسی دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ نے کئی مرتبہ فرمایا: "تجھ پر افسوس ہے!تم نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ "پھر آپ نے تلقین فرمائی: "تم میں سے اگرکوئی اپنے بھائی کی ضرور تعریف کرنا چاہتا ہے تو اسے یوں کہنا چاہیے کہ اللہ ہی فلاں شخص کے متعلق صحیح علم رکھتا ہے۔ میں اس کے مقابلے میں کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔ میں اسے ایسا ایسا گمان کرتا ہوں بشرط یہ کہ وہ اس کی اس خوبی سے واقف ہو۔ "...
مجموع الصفحات: 9 مجموع أحاديث: 90 - کل احا دیث: 90 - کل صفحات: 9