الموضوع المختار منتخب موضوع
مجموع الصفحات: 8 مجموع أحاديث: 78 - کل احا دیث: 78 - کل صفحات: 8
‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَفْهَمْهُ فَرَاج...)
106. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَتْ لاَ تَسْمَعُ شَيْئًا لاَ تَعْرِفُهُ، إِلَّا رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّى تَعْرِفَهُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8] قَالَتْ: فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكِ العَرْضُ، وَلَكِنْ: مَنْ نُوقِشَ الحِسَابَ يَهْلِكْ ...
صحیح بخاری: کتاب: علم کے بیان میں (باب: شاگرد نہ سمجھ سکے تو دوبارہ پوچھ لے)
106. ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ ؓا جب کوئی ایسی بات سنتیں جسے سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ پوچھتیں تاکہ سمجھ لیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن جس سے محاسبہ ہوا، اسے عذاب دیا جائے گا۔" تو اس پر حضرت عائشہ ؓا نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے:"اس کا حساب آسانی سے لیا جائے گا۔" آپ نے فرمایا:"(یہ حساب نہیں ہے) بلکہ اس سے مراداعمال کی پیشی ہے، لیکن جس سے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی وہ یقینا ہلاک ہو جائے گا۔"...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابٌ: لِيُبَلِّغِ العِلْمَ الشَّاهِدُ الغَائِبَ)
107. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ: - وَهُوَ يَبْعَثُ البُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ - ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ، أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغَدَ مِنْ يَوْمِ الفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ: حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلاَ يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَ...
صحیح بخاری: کتاب: علم کے بیان میں (باب: جو موجود ہے وہ غائب کو پہنچا دے)
107. حضرت ابوشریح ؓ سے روایت ہے، انہوں نے (گورنر مدینہ) عمرو بن سعید سے کہا جب کہ وہ مکے کی طرف فوج بھیج رہا تھا: امیر (گورنر) صاحب! مجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ حدیث سناؤں جو نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن بیان فرمائی تھی۔ جسے میرے کانوں نے سنا، دل نے یاد رکھا اور میری دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔ آپ نے اللہ کی حمدوثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: "مکے (میں جنگ و جدال کرنے) کو اللہ نے حرام کیا ہے لوگوں نے اسے حرام نہیں کیا، لہذا اگر کوئی شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ مکے میں خون ریزی کرے، یا وہاں سے کوئی درخت کاٹ...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابٌ: لِيُبَلِّغِ العِلْمَ الشَّاهِدُ الغَائِبَ)
108. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ذُكِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ - قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَأَعْرَاضَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الغَائِبَ». وَكَانَ مُحَمَّدٌ يَقُولُ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ ذَلِكَ «أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ» مَرَّتَيْنِ...
صحیح بخاری: کتاب: علم کے بیان میں (باب: جو موجود ہے وہ غائب کو پہنچا دے)
108. حضرت ابو بکرہ ؓ نے نبی ﷺ کا ذکر کیا کہ آپ نے فرمایا: "بلاشبہ تمہاری جانیں، تمہارے اموال، محمد بن سیرین کہتے ہیں: آپ نے یہ بھی فرمایا: تمہاری عزتیں، تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے آج کے دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں ہے۔ خبردار! حاضر، غائب تک یہ بات پہنچا دے۔" محمد بن سیرین فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا، ایسا ہی ہوا۔" آگاہ رہو! جواب دو، کیا میں نے فریضہ تبلیغ ادا کر دیا؟" آپ نے ایسا دو بار فرمایا۔...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ)
110. حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ: إِنِّي لاَ أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُحَدِّثُ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»...
صحیح بخاری: کتاب: علم کے بیان میں (باب: جو رسول ﷺ پر جھوٹ باندھے)
110. حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد زبیر ؓ سے دریافت کیا: (والد محترم!) میں آپ کو رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھتا ہوں جس طرح فلاں فلاں بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں کبھی رسول اللہ ﷺ سے الگ نہیں ہوا، لیکن میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو کوئی مجھ پر جھوٹ باندھے گا، وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنا لے۔"...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابٌ)
3509. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَا مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى...
صحیح بخاری: کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (باب)
3509. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "ہم تمام امتوں کے آخر میں آئے ہیں لیکن(قیامت کے دن) تمام امتوں سے آگے ہوں گے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ انھیں پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں بعد میں کتاب ملی۔ یہ(جمعہ کا) وہ دن ہے جس میں انھوں نے اختلاف کیا، اس لیے یہودیوں کے لیے کل، یعنی ہفتے کادن اور عیسائیوں کے لیے پرسوں(اتوار) کادن طے ہوا۔ "...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ)
3611. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كَانَ الْمَسْجِدُ مَسْقُوفًا عَلَى جُذُوعٍ مِنْ نَخْلٍ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَقُومُ إِلَى جِذْعٍ مِنْهَا فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ وَكَانَ عَلَيْهِ فَسَمِعْنَا لِذَلِكَ الْجِذْعِ صَوْتًا كَصَوْتِ الْعِشَارِ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ...
صحیح بخاری: کتاب: فضیلتوں کے بیان میں (باب: آنحضرت ﷺکےمعجزات یعنی نبوت کی نشانیوں کابیان)
3611. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ مسج کی چھت کھجور کے تنوں سے بنائی گئی تھی۔ نبی کریم ﷺ (جب خطبہ دیتے تو) کھجور کے ایک تنے کے پاس کھڑے ہوتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبرتیار ہوگیا اور آپ ﷺ اس پر تشریف لے گئے تو ہم نے کھجور کے اس تنے کے رونے کی آوازسنی، جیسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی آواز نکالتی ہے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس پر اپنا دست شفقت رکھا تو وہ خاموش ہوگیا۔ ...
مجموع الصفحات: 8 مجموع أحاديث: 78 - کل احا دیث: 78 - کل صفحات: 8