مجموع الصفحات: 2 مجموع أحاديث: 13 - کل احا دیث: 13 - کل صفحات: 2
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: مَا جَاءَ إِنَّ الأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَ...)
54. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لدُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»...
صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:بغیر خالص نیت کے عمل صحیح نہیں)
54. حضرت عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ ہر انسان کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی۔ اگر کوئی اپنا وطن اللہ اور اس کے رسول کے لیے چھوڑتا ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی۔ اگر کسی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔"...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرَّهْنِ (بَابُ رَهْنِ السِّلاَحِ)
2529. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا، وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ، فَقَالَ: ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ العَرَبِ؟ قَالَ: فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا، فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ، فَيُقَا...
صحیح بخاری: کتاب: رہن کے بیان میں (باب : ہتھیار گروی رکھنا)
2529. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے کون اٹھتا ہے؟کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے۔ "حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اسے میں قتل کرں گا، چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور کہاکہ ہم ایک یا دو وسق غلہ قرض لینا چاہتے ہیں۔ کعب بن اشرف نے کہا: تم اپنی بیویاں میرے پاس گروی رکھ دو۔ انھوں نے جواب دیا: ہم اپنی بیویاں تیرے پاس گروی کیسے رکھ سکتے ہیں جبکہ تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟اس نے کہا: اپنے بیٹوں کو رہن رکھ دو۔ انھوں نےکہا: ہم اپنے بی...
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأً فَلاَ دِيَةَ لَ...)
6953. حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ فَحَدَا بِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ السَّائِقُ قَالُوا عَامِرٌ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَّا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَ...
صحیح بخاری: کتاب: دیتوں کے بیان میں (باب : اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مارڈالا تو ...)
6953. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے، ان میں سے ایک آدمی نے کہا: اے عامر! ہمیں اپنے رجز سناؤ،حضرت عامر ؓ نے انہیں رجز پڑھ کر سنایا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”حدی خوانی کے ساتھ اونٹوں کو چلانے والا کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: حضرت عامر ؓ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحم کرے!“ لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں اس (عامر ؓ) سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا، چنانچہ وہ اس رات کی صبح کے وقت شہید ہوگئے۔ لوگوں نے کہا: عامر کا عمل باطل ہوگیا ہے اس نے خود کو قتل کرلیا ہے۔ جب میں واپس آیا تو لوگ باتیں کر رہے تھے کہ عامر کے اعمال برباد ہو...
صحيح مسلم: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ)
3530. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ» زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ: " وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي...
صحیح مسلم: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل (باب: نکاحِ شغار حرام اور باطل ہے)
3530. ابن نمیر اور ابواسامہ نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا۔ ابن نمیر نے اضافہ کیا: شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: تم اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور میں اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔ اور تم اپنی بہن کا نکاح میرےساتھ کر دو میں اپنی بہن کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔...
سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ نَسْخِ الْمُرَاجَعَةِ بَعْدَ التَّطْلِيقَاتِ...)
2201. حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا! قَالَ: فَسَكَتَ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ:{وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا}[الطلاق: 2]، وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ، فَلَمْ أَجِدْ لَكَ مَخْرَجًا، عَصَيْتَ رَبَّكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ، وَإِنَّ اللَّهَ ...
سنن ابو داؤد: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل (باب: تین طلاقوں کے بعد بیوی سے رجوع کرنا)
2201. مجاہد کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس ؓما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں ۔ چنانچہ وہ خاموش ہو رہے حتیٰ کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اس عورت کو اس پر واپس کر دیں گے ۔ ( رجوع کرنے کا فتوی دے دیں گے ۔ ) پھر بولے : تم میں ایک اٹھتا ہے اور حماقت کا ارتکاب کرتا ہے ، پھر کہتا ہے : ابن عباس ! ابن عباس ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ” جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے ، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بھی پیدا فرما دیتا ہے ۔ “ تو نے اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا ، لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راہ...
سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ الْفِطْرَةِ (بَابُ الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ م...)
74. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِي وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ بِنْتُ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ قَدْرَ ثُلُثَيْ الْمُدِّ قَالَ شُعْبَةُ فَأَحْفَظُ أَنَّهُ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَجَعَلَ يَدْلُكُهُمَا وَيَمْسَحُ أُذُنَيْهِ بَاطِنَهُمَا وَلَا أَحْفَظُ أَنَّهُ مَسَحَ ظَاهِرَهُمَا...
سنن نسائی: کتاب: امور فطرت کا بیان (باب: پانی کی کم از کم مقدار جو آدمی کو وضو کے لیے ...)
74. حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓا سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کا ارادہ فرمایا، تو آپ کے پاس ایک برتن میں پانی لایا گیا جو دو تہائی مد کے برابر تھا۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ آپ نے (دوران وضو میں) اپنے بازول مل مل کر دھوئے اور اپنے کانوں کے اندرونی حصے کا مسح کیا۔ اور بیرونی حصے کے مسح کا مجھے یاد نہیں۔ ...
مجموع الصفحات: 2 مجموع أحاديث: 13 - کل احا دیث: 13 - کل صفحات: 2
مسنداحمد-163،مسنداحمد-283