قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّﷺ)

حکم : حسن صحيح 

108. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ قَالَ سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْوُضُوءِ فَقَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنْ الْوُضُوءِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ فَأَصْغَاهَا عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَاءً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنْ الْوُضُوءِ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَ أَبُو دَاوُد أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةً فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا وَقَالُوا فِيهَا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ

مترجم:

108.

عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان ؓ کو دیکھا، ان سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، چنانچہ ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے اسے اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا اور تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا تین بار اور بایاں ہاتھ تین بار، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) ڈالا اور پانی لیا اور سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا ، ان کے اندر اور باہر سے ایک بار ، پھر اپنے پاؤں دھوئے اور فرمایا: کہاں ہیں وضو کے بارے میں سوال کرنے والے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی وضو کرتے دیکھا تھا۔

امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان ؓ کی تمام صحیح روایات دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سر کا مسح ایک ہی بار کیا تھا۔ سب راوی وضو کو تین تین بار ذکر کرتے ہیں مگر (مسح کے بارے میں اتنا ہی) کہتے کہ ’’انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔‘‘ اور اس میں عدد کا ذکر نہیں کرتے جیسے کہ باقی اعضاء میں کرتے ہیں۔