قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: تقریری

صحيح مسلم: كِتَابُ الْوَصِيَّةِ (بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4304 .   وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَالنِّصْفُ؟ قَالَ: «لَا»، فَقُلْتُ: أَبِالثُّلُثِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ

صحیح مسلم:

کتاب: وصیت کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: ایک تہائی کی وصیت کرنا

)
 

مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

4304.   عبدالملک بن عُمَیر نے مُصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے میری عیادت کی تو میں نے عرض کی: کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ میں نے عرض کی: تو آدھے کی؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ میں نے عرض کی: ایک تہائی کی؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، اور تہائی بھی زیادہ ہے۔‘‘