موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
صحيح مسلم: كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ (بَابُ صِحَّةِ الْإِقْرَارِ بِالْقَتْلِ، وَتَمْكِينِ وَلِيِّ الْقَتِيلِ مِنَ الْقِصَاصِ، وَاسْتِحْبَابِ طَلَبِ الْعَفْوِ مِنْهُ)
حکم : صحیح
4487 . وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ»، فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ، فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَى
صحیح مسلم:
کتاب: قتل کی ذمہ داری کی تعیین کے لیے اجتماعی قسموںاور لوٹ ےمار کرنے والوں(کی سزا)قصاص اور دیت کے مسائل
باب: قتل کا اعتراف اور مقتول کے ولی کو قصاص کا حق دینا بالکل درست ہے اور اس سے معافی مانگنا مستحب ہے
)مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)
4487. اسماعیل بن سالم نے علقمہ بن وائل سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا، تو آپ ﷺ نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حق دیا، وہ اسے لے کر چلا جبکہ اس کی گردن میں چمڑے کا ایک مینڈھی نما رسہ تھا جسے وہ کھینچ رہا تھا، جب اس نے پشت پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قاتل اور مقتول (دونوں) آگ میں ہیں۔‘‘ (یہ سن کر) ایک آدمی اس (ولی) کے پاس آیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اسماعیل بن سالم نے کہا: میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت سے بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن اشوع نے حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے اس (ولی) سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے معاف کر دے تو اس نے انکار کر دیا تھا۔