قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ سِوَاكِ الرَّطْبِ وَاليَابِسِ لِلصَّائِمِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَيُذْكَرُ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ«يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ» مَا لاَ أُحْصِي أَوْ أَعُدُّ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ وَيُرْوَى نَحْوُهُ عَنْ جَابِرٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ النَّبِيِّﷺ وَلَمْ يَخُصَّ الصَّائِمَ مِنْ غَيْرِهِ وَقَالَتْ عَائِشَةُ: عَنِ النَّبِيِّ ﷺ «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» وَقَالَ عَطَاءٌ، وَقَتَادَةُ: «يَبْتَلِعُ رِيقَهُ»

1934. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ حُمْرَانَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وَضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَيْءٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

(

باب : روزہ دار کے لیے تر یا خشک مسواک استعمال کرنی درست ہے

)

تمہید کتاب تمہید باب

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور عامر بن ربیعہ ؓسے منقول ہے کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺکو روزہ کی حالت میں بے شمار دفعہ وضو میں مسواک کرتے دیکھا اور ابوہریرہؓ نے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی کہ اگر میری امت پر مشکل نہ ہوتی تو میں ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم وجوباً دے دیتا۔ اسی طرح کی حدیث جابر اور زید بن خالد ؓ کی بھی نبی کریم ﷺ سے منقول ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ نے روزہ دار وغیرہ کی کوئی تخصیص نہیں کی۔ عائشہؓ نے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا کہ ( مسواک ) منہ کو پاک رکھنے والی اور رب کی رضا کا سبب ہے اور عطاءاور قتادہ نے کہا روزہ دار اپنا تھوک نگل سکتا ہے۔

1934. حضرت حمران سے روایت ہے انھوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر تین تین بار پانی بہایا۔ پھر کلی اور ناک میں پانی ڈالااس کے بعد تین بار چہرہ دھویا پھر دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا۔ اس کے بعد سرکا مسح کیا۔ پھر دایاں پاؤں تین بار اس کے بعد بایاں پاؤں تین بار دھویا، پھر فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: "جس نے میرے وضو جیسا وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور دل میں کوئی خیال نہ لایا تو اس کے پچھلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔ "