قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ (بَابُ الخَطَإِ وَالنِّسْيَانِ فِي العَتَاقَةِ وَالطَّلاَقِ وَنَحْوِهِ،وَلاَ عَتَاقَةَ إِلَّا لِوَجْهِ اللَّهِ )
حکم : أحاديث صحيح بخاري كلها صحيحة
صحیح بخاری: کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں (

باب : اگر بھول چوک کر کسی کی زبان سے عتاق ( آزادی ) یا طلاق یا اور کوئی ایسی ہی چیز نکل جائے اور آزادی صرف خدا کی رضا مندی کے لیے کی جاتی ہے

)

ترجمة الباب: وَقَالَ النَّبِيُّﷺ: «لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى» وَلاَ نِيَّةَ لِلنَّاسِي وَالمُخْطِئِ
ترجمۃ الباب :

 اور نبی کریم ﷺنے فرمایا ” ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملتا ہے “ اور بھولنے والے اور غلطی سے کوئی کام کربیٹھنے والے کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔

2529 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»
2529 . حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "اعمال کا اعتبار نیت کے لحاظ سے ہے۔ جس کی ہجرت(نیت کے اعتبار سے) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے تو اس کی ہجرت(ثواب کے اعتبارسے) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہی ہوگی۔ اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے ہے تواس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔ "