قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

3611. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

مترجم:

3611.

حضرت علی  ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ جب میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں تو آپ پر جھوٹ بولنے سے مجھ کو یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں۔ اور جب میں تم سے وہ باتیں کروں جو میرے اور تمھارے درمیان ہوتی ہیں تو (کوئی نقصان نہیں کیونکہ)لڑائی ایک پُر فریب چال کا نام ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’آخر زمانہ میں کچھ نو عمر بے وقوف پیدا ہوں گے جو زبان سے بہترین خلائق کی باتیں کریں گے لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جا تا ہے اور ایمان ان کے حلق کے نیچے اترے گا۔ ایسے لوگوں سے تمھاری جہاں ملاقات ہو تو انھیں قتل کرنے کی کوشش کرنا کیونکہ قیامت کے ان اس شخص کو ثواب ملے گا جو ان کو قتل کرے گا۔‘‘