قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ سُتْرَةُ الإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

494. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ العِيدِ أَمَرَ بِالحَرْبَةِ، فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ»، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ

مترجم:

494. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن (مدینے سے) باہر تشریف لے جائے تو چھوٹا نیزہ گاڑنے کا حکم دیتے۔ جب اس کی تعمیل کر دی جاتی تو آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ دوران سفر میں بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (مسلمانوں کے) خلفاء نے بھی اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت اپنا لی ہے۔