قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: مَا جَاءَ إِنَّ الأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَالحِسْبَةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى)
حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب:بغیر خالص نیت کے عمل صحیح نہیں)
ترجمة الباب: فَدَخَلَ فِيهِ الإِيمَانُ، وَالوُضُوءُ، وَالصَّلاَةُ، وَالزَّكَاةُ، وَالحَجُّ، وَالصَّوْمُ، وَالأَحْكَامُ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ} [الإسراء: 84] عَلَى نِيَّتِهِ. «نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا صَدَقَةٌ» وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ»
ترجمۃ الباب : تو عمل میں ایمان، وضو، نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ اور سارے احکام آ گئے اور ( سورہ بنی اسرائیل میں ) اللہ نے فرمایا اے پیغمبر! کہہ دیجیئے کہ ہر کوئی اپنے طریق یعنی اپنی نیت پر عمل کرتا ہے اور ( اسی وجہ سے ) آدمی اگر ثواب کی نیت سے خدا کا حکم سمجھ کر اپنے گھر والوں پر خرچ کر دے تو اس میں بھی اس کو صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور جب مکہ فتح ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا لیکن جہاد اور نیت کا سلسلہ باقی ہے۔
54 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لدُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»
54 . حضرت عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ ہر انسان کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی۔ اگر کوئی اپنا وطن اللہ اور اس کے رسول کے لیے چھوڑتا ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی۔ اگر کسی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔"