قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ: إِذَا قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَسَارِ الإِمَامِ، فَحَوَّلَهُ الإِمَامُ إِلَى يَمِينِهِ، لَمْ تَفْسُدْ صَلاَتُهُمَا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

698. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ «فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَلَى يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ المُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرًا، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ

مترجم:

698. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک رات حضرت میمونہ‬ ؓ ک‬ے ہاں سو گیا۔ نبی ﷺ بھی اس رات ان کے پاس تھے۔ آپ نے وضو فرمایا پھر اٹھ کر نفل پڑھنے لگے۔ میں بھی آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے مجھے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کر دیا۔ آپ تیرہ رکعت پڑھ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے اور یہ آپ کی عادت تھی کہ جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے۔ اس کے بعد مؤذن آیا، آپ تشریف لے گئے نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے جب بکیر بن عبداللہ سے یہ حدیث لی تو اس نے حضرت کریب سے براہ راست اسے بیان کیا۔