قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ (بَابُ الِاسْتِخْلاَفِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

7217. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَارَأْسَاهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَا ثُكْلِيَاهْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي وَلَوْ كَانَ ذَاكَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللَّهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ

مترجم:

7217.

سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ کہا: ہائے سر پھٹا جا رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مرجاؤ اور میں زندہ رہا تو میں تمہارے لیے مغفرت مانگوں گا اور دعائے خیر کروں گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: افسوس! آپ تو میری موت کے طالب ہیں اور اگر ایسا ہوگیا تو آپ دن کی آخری حصےمیں ضرور کسی دوسری عورت  سے شادی کرلیں گے۔ نبی ﷺنے فرمایا: ایس نہیں بلکہ میں تو اپنے سر درد کا اظہار کرتا ہوں۔ میرا ارادہ ہوا تھا کہ میں ابو بکر اور اس کے بیٹے کو بلاؤں اور انہیں خلیفہ بنا دوں تاکہ کسی دعویٰ کرنے والے یا س کی خواہش رکھنے والے کے لیے گنجائش باقی نہ رہے لیکن پھر میں نے سوچا کہ اللہ خود کسی دوسرے کی خلافت کا انکار کرے گا اور مسلمان بھی اسے دفع کریں گے۔۔۔۔۔یا فرمایا۔۔۔۔ اللہ دفع کرے گا اورمسلمان کسی اور کو خلیفہ نہیں بننے دین گے۔