قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الكُفْرِ وَالرِّدَّةِ (بَابٌ: كَمُ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

6851. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالْمُنَكِّلِ بِهِمْ حِينَ أَبَوْا تَابَعَهُ شُعَيْبٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَيُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

صحیح بخاری: کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمان سے لڑتے ہیں (

باب : تنبیہ اور تعزیر یعنی حد سے کم سزا کتنی ہونی چاہئے

) تمہید باب

مترجم:

6851. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا تو ایک مسلمان صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون میرے جیسا ہے؟ میں رات بسر کرتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔“ جب لوگ وصال کے روزوں سے باز نہ آئے تو آپ ﷺ نے ایک دن وصال کا روزہ رکھا دوسرے دن پھر وصال کا روزہ رکھا، پھر لوگوں نے چاند دیکھ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاند دکھائی نہ دیتا تو میں مزید وصال کے روزے رکھتا۔“ یہ آپ نے بطور تنبیہ فرمایا کیونکہ لوگ وصال کے روزے رکھنے پر مصر تھے۔ شعیب یحیٰی بن سعد اور یونس نے زہری سے روایت کرنے میں عقیل کی متابعت کی ہے نیز عبدالرحمن بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے ابو ہریرہ ؓ انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا۔