1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَضَائِلِ المَدِينَةِ (بَابُ مَنْ رَغِبَ عَنِ المَدِينَةِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1874. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِ يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا...

صحیح بخاری:

کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

(باب : جو شخص مدینہ سے نفرت کرے)

1874.

حضرت ابوہریرۃ  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: میں نےرسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’تم مدینہ کو بہت اچھی حالت میں چھوڑ جاؤگے۔ وہاں صرف پرندے اور درندے رہ جائیں گے۔ آخر میں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے مدینہ طیبہ آئیں گے جو اپنی بکریوں کو آوازیں دیں گے۔ وہ مدینہ کو وحشی جانوروں سے بھرا ہوا پائیں گے۔ جب وہ ثنیۃ الوداع پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔‘‘

...

2 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابٌ فِي الْمَدِينَةِ حِينَ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1389. حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمَدِينَةِ لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي» يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ، قَالَ مُسْلِمٌ: «أَبُو صَفْوَانَ هَذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، يَتِيمُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَشْرَ سِنِينَ كَانَ فِي حَجْرِهِ»...

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: مدینہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود لوگوں...)

1389.

ابو صفوان اور ابن وہب نے یونس بن یزید سے، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا: ’’اس کے رہنے والے اس کے بہترین حالت میں ہونے کے باوجود، اسے اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ خوراک کے متلاشیوں کے قدموں کے نیچے روندا جارہا ہو گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد درندوں اور پرندوں سے تھی۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ ابو صفوان، عبداللہ بن عبدالملک ہے، دس سال تک ابن جریج کا (پروردہ) یتیم، جو ا...