1 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ هِجْرَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِهِ إِلَى ال...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3907. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ وَفَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ إِلَّا نِطَاقِي قَالَ فَشُقِّيهِ فَفَعَلْتُ فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْمَاءُ ذَاتَ النِّطَاقِ...

صحیح بخاری:

کتاب: انصار کے مناقب

(

باب: نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ ک...)

3907.

حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے لیے کھانا تیار کیا جب انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔میں نے اپنے والد گرامی سے کہا: میں اپنے ازار بند کے علاوہ توشہ دان باندھنے کے لیے کچھ نہیں پاتی۔انہوں نے فرمایا کہ اس کے دو ٹکڑے کر لو، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین ہو گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت اسماء‬ ؓ ک‬و ذات النطاق کہا۔

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَطْعِمَةِ (بَابُ الخُبْزِ المُرَقَّقِ وَالأَكْلِ عَلَى الخِوَ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5388. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ كَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ يُعَيِّرُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُونَ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ يَا بُنَيَّ إِنَّهُمْ يُعَيِّرُونَكَ بِالنِّطَاقَيْنِ هَلْ تَدْرِي مَا كَانَ النِّطَاقَانِ إِنَّمَا كَانَ نِطَاقِي شَقَقْتُهُ نِصْفَيْنِ فَأَوْكَيْتُ قِرْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدِهِمَا وَجَعَلْتُ فِي سُفْرَتِهِ آخَرَ قَالَ فَكَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ إِذَا عَيَّرُوهُ بِالنِّطَاقَيْنِ يَقُولُ إِيهًا وَالْإِلَهِ تِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ عَنْكَ عَارُهَا....

صحیح بخاری:

کتاب: کھانوں کے بیان میں

(باب: ( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دب...)

5388.

وہب بن کیسان سے روایت ہے انہوں نے کہا: شامی لوگ سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کو عار دلاتے ہوئے کہتے: اے ذات نطاقین کے بیٹے! ان کی والدہ ماجدہ سیدہ اسماء‬ ؓ ن‬ے فرمایا: اے بیٹے! لوگ تجھے ''ذات نطاقین'' کا بیٹا کہہ کر طعنہ دیتے ہیں، کیا آپ کو علم ہے کہ ''نطاقین'' کیا تھے؟ میرا ایک کمر بند تھا۔ میں نے اس کے دو ٹکڑے کردیے : ایک ٹکڑے کے ساتھ میں نے (ہجرت کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ کے مشکیزے کا منہ باندھا، دوسرا ٹکڑا میں نے دسترخوان کے طور پر رکھ دیا۔ وہب بن کیسان نے کہا جس وقت شامی لوگ سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کو...