1 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

623. حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: «الْعَصْرَ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ»...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

(باب: نماز عصر جلدی پڑھنا مستحب ہے)

623. حضرت ابو اامامہ بن سہل ﷜بیان کرتے ہیں : ہم نے عمر بن عبدالعزیز ؓ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک ﷜ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انھیں حاصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا ، میں نے پوچھا :چچا جان! یہ کون سی نماز ہےجو آپ نے پڑھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : عصر کی ہے ، اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔...

2 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ)

صحیح

413. حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ أَوْ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا...

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

(باب: نماز عصر کا وقت)

413.

جناب علاء بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز ظہر کے بعد سیدنا انس ؓ کے ہاں گئے، تو وہ اٹھ کر نماز عصر پڑھنے لگ گئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے ان کے نماز عصر جلدی پڑھنے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے ذکر کیا تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے، فرماتے تھے۔ ”یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ ان میں سے ایک بیٹھا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان یا ان سینگوں کے اوپر ہوتا ہے، تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اللہ کا ذکر اس میں بس برائے نام ہی کرتا ہے۔“

...

3 سنن النسائي: كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ تَعْجِيلِ الْعَصْرِ)

صحیح

509. أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ قُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرَ وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي...

سنن نسائی:

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

(باب: عصر کو جلدی پڑھنا مسنون ہے)

509.

ابوامامہ بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم نکلے حتیٰ کہ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس پہنچے تو ہم نے انھیں عصر کی نماز پڑھتے پایا۔ میں نےکہا: چچاجان! یہ کون سی نماز آپ نےپڑھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: عصر کی۔ اور یہ اللہ کے رسول ﷺ کی نماز ہے جو ہم (آپ کے ساتھ) پڑھتے تھے۔

...

4 سنن النسائي: كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ تَعْجِيلِ الْعَصْرِ)

حسن الإسناد

510. أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْمَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ صَلَّيْنَا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَنَا صَلَّيْتُمْ قُلْنَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ فَقَوَّلُوا لَهُ عَجَّلْتَ فَقَالَ إِنَّمَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ...

سنن نسائی:

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

(باب: عصر کو جلدی پڑھنا مسنون ہے)

510.

حضرت ابوسلمہ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے دور (گورنری) میں نماز پڑھی، پھر ہم حضرت انس بن مالک ؓ کی طرف چلے۔ ہم نے انھیں نماز پڑھتے پایا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو ہمیں کہنے لگے: تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے ظہر کی نماز پڑھی ہے۔ وہ کہنے لگے: میں نے تو عصر کی نماز پڑھی ہے۔ لوگوں نے کہا: آپ نے جلدی کی ہے۔ انھوں نے فرمایا: میں تو اس طرح نماز پڑھتا ہوں جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو پڑھتے دیکھا ہے۔

...