1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطَّلاَقِ (بَابُ الكُحْلِ لِلْحَادَّةِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5338. حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَخَشُوا عَلَى عَيْنَيْهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الكُحْلِ، فَقَالَ: «لاَ تَكَحَّلْ، قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا أَوْ شَرِّ بَيْتِهَا، فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ، فَلاَ حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ»،...

صحیح بخاری:

کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان

(باب: عورت عدت میں سرمہ کا استعمال نہ کرے)

5338.

سیدنا زینب بنت ام سلمہ‬ ؓ س‬ےروایت ہے وہ اپنی والدہ ام المومنین سیدنا ام سلمہ‬ ؓ س‬ے بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا شوہر فوت ہو گیا تو اس کے اہل خانہ کو اس کی آنکھوں کے ضائع ہونے کا خطرہ محسوس ہوا، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا: ”وہ سرمہ نہ لگائے۔ زمانہ جاہلیت میں تم میں سے کسی ایک کو گندے گھر اور بد ترین کپڑوں میں وقت گزارنا پڑتا تھا۔ جب اس طرح سال مکمل ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس کی طرف منیگنی پھینکتی تھی۔ اس لیے اب تم اسے سرمہ نہ لگاؤ حتیٰ کہ چار ماہ دس گزر جائیں۔“

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ الإِثْمِدِ وَالكُحْلِ مِنَ الرَّمَدِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5706. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرُوا لَهُ الكُحْلَ، وَأَنَّهُ يُخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، فَقَالَ: لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا، فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا - أَوْ: فِي أَحْلاَسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا - فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بَعْرَةً، فَهَلَّا، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ...

صحیح بخاری:

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

(

باب: اثمد اور سرمہ لگانا جب آنکھیں دکھتی ہوں

5706.

سیدہ ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ایک عورت کا شوہر فوت ہوگیا اور اس کی آنکھوں میں درد ہو گیا تو لوگوں نے اس عورت کا ذکر نبی ﷺ سے کیا اور اسکی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی بات بھی ہوئی اور یہ کہ اس کی آنکھ ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دور جاہلیت میں عدت گزارنے والی عورت کو اپنے گھر میں بد ترین کپڑوں میں رہنا پڑتا تھا۔“ یا فرمایا: ”اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے گندے حصے میں پڑا رہنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس کو مینگنی مارتی (اور عدت سے باہر آتی) تو کیا اب چار ماہ دس دن تک سرمہ لگانے سے نہیں رک سکتی۔“

...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1489. قَالَتْ زَيْنَبُ: سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا، أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا - ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ...

صحیح مسلم:

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل

(باب: وفات کی عدت میں سوگ ضروری ہے اس کے علاوہ تین ...)

1489.

زینب‬ رضی اللہ  تعالی عنہا ن‬ے کہا: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ  تعالی عنہا س‬ے سنا وہ کہہ رہی تھیں، ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے۔ اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ دو یا تین بار (پوچھا گیا) ہر بار آپﷺ فرماتے: ’’نہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ایک عورت (پورا) ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی۔‘&...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1488. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا - أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا - فِي بَيْتِهَا حَوْلًا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ، فَخَرَجَتْ، أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا...

صحیح مسلم:

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل

(باب: وفات کی عدت میں سوگ ضروری ہے اس کے علاوہ تین ...)

1488.

حمید بن نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے زینب بنت ام سلمہ‬ رضی اللہ تعالی عنہا س‬ے سنا وہ اپنی والدہ سے حدیث بیان کر رہی تھیں کہ ایک عورت کا شوہر فوت ہو گیا، انہیں اس کی آنکھ کے بارے میں (بیماری لاحق ہونے کا) خطرہ محسوس ہوا تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، اور آپﷺ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اپنے گھر کے بدترین حصے میں اپنے ٹاٹوں میں ۔۔ یا فرمایا: اپنے بدترین ٹاٹوں میں اپنے گھر کے اندر ۔۔۔ سال بھر رہتی، اس کے بعد جب کوئی کتا گزرتا تو وہ ایک لید پھینکتی اور باہر نکلتی تو کیا (اب) چار مہینے دس دن (صبر) نہیں...

5 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الطَّلَاقِ وَاللِّعَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا ...)

صحیح

1197. قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا أَفَنَكْحَلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ...

جامع ترمذی: كتاب: طلاق ور لعان کے احکام ومسائل (باب: شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان​)

1197.

(تیسری حدیث یہ ہے:) زینب کہتی ہیں: میں نے اپنی ماں ام المومنین ام سلمہ‬ ؓ ک‬و کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آکر عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! میری بیٹی کا شوہرمرگیا ہے، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘۔ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپﷺ سے پوچھا اور آپﷺ نے ہربار فرمایا: ’’نہیں‘‘، پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’(اب تو اسلام میں) عدت چار ماہ دس دن ہے، حالاں کہ جاہلیت میں تم میں سے (فوت شدہ شوہروالی بیوہ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھ...

6 سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا)

صحیح

3501. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قُلْتُ عَنْ أُمِّهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا أَتَكْتَحِلُ فَقَالَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا حَوْلًا ثُمَّ خَرَجَتْ فَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا...

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

(باب: جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے‘ اس کی عدت)

3501.

حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہوچکا تھا اور اسکی آنکھوں کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا‘ کیا وہ سرمہ ڈال سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: (دور جاہلیت میں) ایک عورت کو اپنے گھر میں ایک سال تک بدترین ٹاٹ میں رہنا پڑتا تھا‘ پھر وہ نکلی تھی۔ تو کیا اب وہ چار مہینے دس دن تک انتظار نہیں کرسکتی۔؟“

...

7 سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا)

صحیح

3502. أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَجَدُّهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتَا جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا أَفَأَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَجْلِسُ حَوْلًا وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ف...

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

(باب: جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے‘ اس کی عدت)

3502.

حضرت ام حبیبہ اور ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبیﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور کہنے لگی: میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے۔ مجھے اس کی آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے‘ تو کیا میں اسے سرمہ ڈال دوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”(اس سے پہلے جاہلیت میں) عورت کو ایک سال تک گھر میں (بند) رہنا پڑتا تھا جب کہ اب تو صرف چار ماہ دس دن ہیں۔ جب سال پورا ہوتا تھا تو وہ نکلتی تھی اور اپنے پیچھے اونٹ کی مینگنی پھینکا کرتی تھی۔“

...

8 سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا)

صحیح

3504. أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ...

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

(باب: جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے‘ اس کی عدت)

3504.

حضرت ام سلمہ اور نبیﷺ کی ایک اور زوجہ محترمہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے‘ علاوہ خاوند کے کہ اس پر وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔“

9 سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابٌ تَرْكُ الزِّينَةِ لِلْحَادَّةِ الْمُسْلِمَةِ...)

صحیح

3533. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ...

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

(باب: سوگ کرنے والی مسلمان عورت زیب وزینت چھوڑے گی ...)

3533.

حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نبیﷺ کی زوجۂ محترمہ حضرت ام حبیبہؓ کے ہاں حاضر ہوئی جب ان کے والد محترم حضرت ابوسفیان بن حرب ؓ فوت ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے خوشبو منگوائی اور ایک بچی کو لگائی‘ پھر خوشبو والے ہاتھ اپنے رخساروں پر مل لیے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جوعورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے مگر خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا ہوگا۔“

...

10 سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ مَا تَجْتَنِبُ الْحَادَّةُ مِنْ الثِّيَابِ ا...)

صحیح

3535. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنْ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ...

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

(باب: سوگ کرنے والی عورت شوخ رنگ دار کپڑوں سے پرہیز...)

3535.

نبیﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ (عدت کے دوران میں) کسنبے سے رنگا ہوا زرد کپڑا اور مشق (گیرو) سے رنگا ہوا سرخ کپڑا نہ پہنے‘ نہ وہ مہندی لگائے نہ سرمہ۔“