قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ فِي الْوُضُوءِ مِنْ النَّوْمِ)

حکم : صحیح 

199. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً، فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

(باب: نیندسے وضو)

تمہید کتاب

مترجم:

199. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ کسی کام میں مشغول ہو گئے اور نماز ( عشاء ) میں بہت تاخیر کر دی حتیٰ کہ ہم لوگ مسجد میں سو گئے ، پھر جاگے ، پھر سو گئے ، پھر جاگے ، پھر سو گئے ، پھر کہیں آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا ” تمہارے علاوہ اور کوئی نماز کا انتظار نہیں کر رہا ۔ “