قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النَّومِ (بَابٌ فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ)

حکم : صحیح 

5062. حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ الْمَعْنَى عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مُسَدَّدٌ، قَالَ:، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: شَكَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، فَأُتِيَ بِسَبْيٍ، فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ، فَلَمْ تَرَهُ، فَأَخْبَرَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ، فَقَالَ: >عَلَى مَكَانِكُمَا<، فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ: >أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا, إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ, وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ<.

مترجم:

5062.

سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہسیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے نبی کریم ﷺ سے چکی پیسنے کے باعث ہاتھوں میں تکلیف کا اظہار کیا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے تو سیدہ فاطمہ ؓ آپ ﷺ کے پاس آئیں کہ آپ سے کوئی خادم طلب کریں، مگر آپ نہ ملے، تو انہوں نے سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬و بتایا۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو انہوں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا (کہ سیدہ فاطمہ ؓ آئی تھیں) تو نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں میں جا چکے تھے۔ آپ تشریف لائے تو ہم اٹھنے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اپنی جگہ پر رہو۔“ آپ آئے اور ہمارے درمیان بیٹھ گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس چیز سے بہت بہتر ہو جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے؟ جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس بار «سبحان الله» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «الله اكبر» پڑھ لیا کرو۔ یہ تمہارے لیے خادم سے کہیں بہتر ہے۔“