قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

1427.15. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ، وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ، وَمَكَاتِلِهِمْ، وَمُرُورِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ {فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ} [الصافات: 177] "، قَالَ: وَهَزَمَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا، وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ، وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ، فَوُضِعَتْ فِيهَا، وَجِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ، قَالَ: وَقَالَ النَّاسُ: لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا، أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ؟ قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا، فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ، دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعْنَا، قَالَ: فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ، وَنَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَدَرَتْ، فَقَامَ فَسَتَرَهَا، وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ، فَقُلْنَ: أَبْعَدَ اللهُ الْيَهُودِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَاللهِ، لَقَدْ وَقَعَ.

مترجم:

1427.15.

حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سوار تھا، اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا۔ کہا: ہم (اس وقت) ان تک پہنچے جب سورج چمکنے لگا تھا۔ وہ اپنے جانوروں کو (چرانے کے لیے) باہر نکل چکے تھے اورخود بھی اپنے پھاوڑے، نوکرے اور بیلچے لے کر(کھیتوں اور باغوں کی طرف) نکل چکے تھے (جب انہوں نے لشکر دیکھا تو) کہنے لگے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور لشکر ہے۔ کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’خیبر اجڑ گیا! بلا شبہ جب ہم کسی قوم کے گھروں کے سامنے اترتے ہیں تو جن لوگوں کو (پہلے) ڈرایا گیا تھا ان کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔‘‘ کہا: اللہ عزوجل نے انہیں شکست دی۔ دحیہ (بن خلیفہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)  کے حصے میں ایک خوبصورت کنیز آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سات نفر (غلاموں، لونڈیوں) کے عوض خرید لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کر دیا تاکہ (حیض سے پاک ہونے کے بعد) وہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا سنوار دے اور تیا ر کر دے۔ (ثابت نے) کہا: میرا خیال ہے، انہوں (انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے(یہ بھی) کہا۔۔اور وہ ان (ام سلیم) کے گھر میں عدت گزار لے۔ اور وہ (کنیز) صفیہ بنت حیی تھیں۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا۔ زمین کھود کر تھوڑی تھوڑی نیچی کی گئی اور چمڑے کے بنے ہوئے دستر خوان لائے گئے اور ان (نیچی جگہوں) میں بچھا دیے گئے، پھرگھی اور پنیر لایا گیا، لوگ (کھا کر خوب) سیر ہو گئے۔ (انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا: لوگوں نے (ایک دوسرے سے) کہا: معلوم نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی ہے یا اُمِّ ولد (بچے کی ماں) کی حیثیت دی ہے۔ (کچھ) لوگوں نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو وہ ام ولج کی زوجہ ہیں اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پردہ نہ کرایا تو وہ ام ولد ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پردہ کروایا، اور وہ اونٹ کے پچھلے حصے پر بیٹھ گئیں، تو لوگوں نے جان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی ہے۔ جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہو گئے اور ہم نے بھی رفتار تیز کر لی، کہا: اونٹنی عضباء ٹھوکر کھا کر گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پالان سے) نکل گئے اور وہ (سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) بھی نکل کر گر گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو پردے میں کیا، عورتیں اوپر سے جھانک رہی تھیں، کہنے لگیں: اللہ یہودی عورت کو دور کرے۔ (ثابت نے) کہا: میں نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے تھے۔