قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الرُّؤْيَا (بَابُ لَا يُخْبِرُ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

2268.03. وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي ضُرِبَ فَتَدَحْرَجَ فَاشْتَدَدْتُ عَلَى أَثَرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَعْرَابِيِّ: «لَا تُحَدِّثِ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي مَنَامِكَ» وَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ، يَخْطُبُ فَقَالَ: «لَا يُحَدِّثَنَّ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي مَنَامِهِ»

مترجم:

2268.03.

جریر نے اعمش سے، انھوں نے ابو سفیان سے، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: اللہ کے رسول ﷺ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر کو تلوار کا نشان بنایا گیا ،وہ لڑکھتا ہوا جا رہا ہے اور میں اس کے پیچھے د وڑ رہا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اعرابی سے فرمایا: ’’نیند کی حالت میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے وہ لوگوں کو نہ بتاؤ۔‘‘ (حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا: میں نے اس کے بعد نبی کریم ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’خواب میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے تم میں سے کوئی اس کے بارے میں لوگوں کے ساتھ باتیں نہ کرے۔‘‘