قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ: الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةٌ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

400.01.  وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ» فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: 2] ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟» فَقُلْنَا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ، إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ " زَادَ ابْنُ حُجْرٍ، فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ. وَقَالَ: «مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ»

مترجم:

400.01.

علی بن حجر سعدی اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے (الفاظ انہی کے ہیں) علی بن مسہر سے روایت کیا، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، کہا: ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپﷺ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے، پھر آپﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ کس بات پر ہنسے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے پڑھا: ﴿بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ   فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ  إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نےآپﷺ کو کوثر عطا کی۔ پس آپﷺ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں، یقیناً آپﷺ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے کہا: ’’کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کےلیے آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے۔ تو وہ فرمائے گا: آپﷺ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپﷺ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔‘‘ (علی) ابن حجر نے اپنی حدیث میں (یہ) اضافہ کیا: آپﷺ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اور (أَحْدَثُوا بَعْدَكَ کی جگہ) أَحْدَثَ بَعْدَكَ ’’اس نے نئی بات نکالی‘‘ کہا۔