قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

706.03. و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ

مترجم:

706.03.

سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے انھوں نے (ابوشعشاء) جابر بن زید سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا، انھوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر اورعصر) اکھٹی اور سات رکعات (مغرب اور عشاء) اکھٹی پڑھیں۔ (عمرو نے کہا) میں نے ابو شعشاء (جابر بن زید) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپﷺ نے ظہر کو مؤخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔ انھوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔