قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ الأَجِيرِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ الحَسَنُ، وَابْنُ سِيرِينَ: «يُقْسَمُ لِلْأَجِيرِ مِنَ المَغْنَمِ» وَأَخَذَ عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ فَرَسًا عَلَى النِّصْفِ، فَبَلَغَ سَهْمُ الفَرَسِ أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَخَذَ مِائَتَيْنِ، وَأَعْطَى صَاحِبَهُ مِائَتَيْنِ

2975.01. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ فَهُوَ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا فَقَاتَلَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا فَقَالَ أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ

مترجم:

ترجمۃ الباب:

امام حسن بصری اور ابن سیرین نے کہا کہ مال غنیمت میں سے مزدور کو بھی حصہ دیا جائے گا ۔ عطیہ بن قیس نے ایک گھوڑا ( مال غنیمت کے حصے کے ) نصف کی شرط پر لیا ۔ گھوڑے کے حصہ میں ( فتح کے بعد مال غنیمت سے ) چار سو دینار آئے ۔ عطیہ نے دو سو دینار خود رکھ لیے اور دو سو گھوڑے کے مالک کو دے دئیے ۔

2975.01.

حضرت یعلی بن امیہ  ؓسے روایت ہے کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جہاد کے لیے روانہ ہوا۔ میں نے ایک جوان اونٹ سواری کے لیے بھی دیا جو میرے خیال میں میرا مضبوط ترعمل تھا۔ اس سلسلے میں میں نے ایک مزدور بھی کرائے پر رکھا۔ وہ مزدور کسی سے لڑ پڑا تو ایک نے دوسرے کا ہاتھ چبا لیا۔ دوسرے نے جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ اس کے منہ سے نکالا تو اس کے اگلے دو دانت نکال دیے۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے باطل ٹھہرایا اور فرمایا: ’’ کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں ڈالے رکھتا کہ تو اسے چباتا رہے جیسے اونٹ چباتا ہے؟‘‘