قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ مَنِ اكْتَوَى أَوْ كَوَى غَيْرَهُ، وَفَضْلِ مَنْ لَمْ يَكْتَوِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

5705.01. فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ وَالنَّبِيَّانِ يَمُرُّونَ مَعَهُمُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، حَتَّى رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هَذَا؟ أُمَّتِي هَذِهِ؟ قِيلَ: بَلْ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، قِيلَ: انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ، فَإِذَا سَوَادٌ يَمْلَأُ الأُفُقَ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ هَا هُنَا وَهَا هُنَا فِي آفَاقِ السَّمَاءِ، فَإِذَا سَوَادٌ قَدْ مَلَأَ الأُفُقَ، قِيلَ: هَذِهِ أُمَّتُكَ، وَيَدْخُلُ الجَنَّةَ مِنْ هَؤُلاَءِ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ، فَأَفَاضَ القَوْمُ، وَقَالُوا: نَحْنُ الَّذِينَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاتَّبَعْنَا رَسُولَهُ، فَنَحْنُ هُمْ، أَوْ أَوْلاَدُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنَّا وُلِدْنَا فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لاَ يَسْتَرْقُونَ، وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ، وَلاَ يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» فَقَالَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ: أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: أَمِنْهُمْ أَنَا؟ قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ».

مترجم:

5705.01.

(راوی کہتا ہے کہ) میں نے یہ بات سعید بن جبیر سے بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی اور دو نبی گزرنے لگے۔ ان کے ساتھ لوگوں کے گروہ گزرتے تھے۔ اور کچھ نبی ایسے تھے کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ آخر میرے سامنے ایک بھاری جماعت آئی تو میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کیا یہ میری امت ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ موسیٰ ؑ کی امت ہے پھر مجھ سے کہا گیا: آپ افق کی طرف نگاہ اٹھائیں میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے جو آسمان کے کناروں تک چھائی ہوئی ہے پھر مجھے کہا گیا کہ ادھر ادھر دیکھو۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ عظیم ترین ہجوم نے آفاق کو بھرا ہوا ہے مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے ان میں ستر ہزار ایسے ہیں جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر آپ ﷺ حجرے میں داخل ہو گئے اور یہ وضاحت نہ کی کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ لوگ ان کی متعلق بحث وتحمیص کرنے لگے کہ وہ ہم لوگ ہیں جو اللہ تعالٰی پر ایمان لائے ہیں اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی ہے اس لیے وہ لوگ ہم ہیں یا ہماری اولاد جو اسلام میں پیدا ہوئی کیونکہ ہم تو دور جاہلیت کی پیداوار ہیں جب یہ باتیں نبی ﷺ کو معلوم ہوئیں تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے فال نہیں دیکھتے (بد شگونی نہیں لیتے) اور داغ کر علاج نہیں کرتے بلکہ اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصن نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں تم ان میں سے ہو۔“ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے بازی لے گیا ہے۔“