قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابٌ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

1399.  حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَالَ فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا فَيَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا قُلْنَا لَا قَالَ لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ مُوسَى إِنَّهُ يُدْخِلُ ذَلِكَ الْكَلُّوبَ فِي شِدْقِهِ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ قُلْتُ مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ فَيَشْدَخُ بِهِ رَأْسَهُ فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ فَلَا يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا هُوَ فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا إِلَى ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى وَسَطِ النَّهَرِ قَالَ يَزِيدُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ وَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَنِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ قُلْتُ طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ قَالَا نَعَمْ أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْكَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمْ الزُّنَاةُ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ وَالدَّارُ الْأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ قَالَا ذَاكَ مَنْزِلُكَ قُلْتُ دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ

مترجم:

1399.

حضرت سمرہ بن جندب ؓ  سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:نبی کریم ﷺ جب نماز(فجر) سے فارغ ہوتے تو ہماری طرف منہ کرکے فرماتے:’’تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟‘‘ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھاہوتا تو وہ بیان کردیتا،پھر جو کچھ اللہ چاہتا آپ اس کی تعبیر بیان کرتے، چنانچہ اسی طرح ایک دن آپ نے ہم سے پوچھا:’’کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا:نہیں آپ نے فرمایا:’’مگر میں نے آج رات دو آدمیوں کو خواب میں دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک مقدس زمین پر لے گئے۔ وہاں میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی بیٹھا اور دوسرا کھڑا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے جسے وہ بیٹھے ہوئے آدمی کے جبڑے میں داخل کرتا ہے جو اس طرف کوچیرتا ہوا،اس کی گدی تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس کے دوسرے جبڑے میں بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ اس عرصے میں پہلاجبڑا ٹھیک ہوجاتا ہے۔ پھر یہ دوبارہ ایسے ہی کر دیتا ہے۔ میں نےپوچھا:یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے مجھے کہا:آگے چلیے ۔ ہم چلے تو ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو بالکل چت لیٹا ہوا ہے۔ اور ایک آدمی اس کے سرہانے ایک پتھر لیے کھڑا ہے۔ وہ اس پتھر سے اس کا سر پھوڑرہا ہے۔ جب پتھر مارتا ہے تو وہ لڑھک کردور چلا جاتا ہے، پھر وہ اسے جاکر اٹھالاتاہے۔ اور جب اس لیٹے ہوئے شخص کے پاس لوٹ کرآتاہے تو اس وقت تک اس کا سر جڑ کراچھا ہوجاتا ہے اور جیسے پہلے تھا اسی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے دوبارہ مارتا ہے۔ میں نے پوچھا:یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا: آگے چلیے، چنانچہ ہم ایک گڑھے کی طرف چلے جو تنور کی طرح تھا۔ اس کا منہ تنگ اور پیندا چوڑا تھا۔ اس میں آگ جل رہی تھی اور اس میں برہنہ مرد اور عورتیں تھیں جب آگ بھڑکتی تو وہ (برہنہ لوگ) شعلوں کے ساتھ اچھل پڑتے اور نکلنے کے قریب ہوجاتے، پھر جب آگ دھیمی ہوجاتی تو وہ بھی دھڑام سے نیچے گرپڑتے۔ میں نے کہا:یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا: آگے چلیے، چنانچہ ہم چلے اور ایک خونی نہر پر پہنچے۔ اس میں ایک شخص کھڑا تھا اور اس کے کنارے پر دوسراآدمی تھا جس کے سامنے بہت سے پتھر پڑے تھے، نہر کے اندر والاآدمی جب باہر آنا چاہتا تو کنارے والا آدمی اسکے منہ پر اس زور سے پتھر مارتا کہ وہ پھر اپنی جگہ پر لوٹ جاتا، پھر ایسا ہی کرتا رہا۔ جب بھی ہو نکلنا چاہتا تو دوسرا اس زور سے اس کے منہ پر پتھر مارتا کہ اسے اپنی جگہ پر لوٹا دیتا۔ میں نے پوچھا:یہ کون ہے؟ان دونوں نے کہا:آگے چلیے۔ ہم چل دیے۔ چلتے چلتے ہم ایک سرسبز باغ میں پہنچے جس میں ایک بڑا سا درخت تھا۔ اس کی جڑ کے قریب ایک بوڑھا آدمی اور کچھ بچے بیٹھے تھے۔ اب اچانک میں کیادیکھتا ہوں کہ اس درخت کے پاس ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ ہے اور وہ اسے سلگا رہا ہے۔ پھر وہ دونوں مجھے اس درخت پر چڑھا لے گئے اور وہاں انھوں نے مجھے ایک ایسے مکان میں داخل کیاجس سے بہتر مکان میں نے کبھی نہیں دیکھااس میں کچھ بوڑھے، کچھ جوان، کچھ عورتیں اور کچھ بچے تھے۔ پھر وہ دونوں مجھ کو وہاں سے نکال لائے اور درخت پر چڑھایا۔ وہاں بھی ایک مکان تھا جس میں مجھے داخل کیا۔ یہ مکان پہلے سے بھی زیادہ عمدہ اورشاندار تھا۔ اس میں بھی کچھ بوڑھے اور جوان آدمی موجود تھے۔ تب میں نے ان دونوں سے کہا:’’تم نے مجھے رات بھر پھرایا ہے، اب میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی حقیقت بتاؤ؟‘‘ انھوں نے جواب دیا:اچھا۔ وہ شخص جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جارہاتھا وہ بہت جھوٹا آدمی تھا اور جھوٹی باتیں کیاکرتاتھا جو اس سے نقل ہوکر تمام اطراف عالم میں پہنچ جاتی تھیں۔اسلیے قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوتا رہے گا اور وہ شخص جسے آپ نے دیکھا کہ اس کاسر کچلاجارہا ہے۔یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا تھا مگر وہ قرآن کو چھوڑ کر رات بھر سوتا رہتا اور دن میں بھی اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ روز قیامت تک اس کے سر پر یہی عمل ہوتا رہے گا۔ اور وہ لوگ جنھیں آپ نے گڑھے میں دیکھا، وہ زانی ہیں۔ اور جسے آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور ہیں۔ وہ بوڑھا انسان جو درخت کی جڑ کے قریب بیٹھا ہوا تھا، وہ حضرت ابراہیم ؑ تھے اور چھوٹے بچے جو ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے، وہ لوگوں کے وہ بچے تھے جو(بلوغ سے پہلے) مرگئے۔ اور جو آدمی آگ تیز کررہا تھا وہ مالک، جہنم کا داروغہ تھا۔ اور وہ پہلا مکان جس میں آپ تشریف لے گئے تھے عام مسلمانوں کا گھر ہے اور یہ دوسرا شہیدوں کے لیے ہے ۔ میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائل ہیں۔ اب آپ اپنا سر ا ٹھائیں۔ میں نے سراٹھایا تو یکایک دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر ابر کی طرح کوئی چیز ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ آپ کی اقامت گاہ ہے۔ میں نے کہا:’’مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔‘‘ تو انھوں نےکہا:ابھی آپ کی کچھ عمر باقی ہے، اگر آپ اسے پورا کرچکے ہوتے تو اپنی رہائش گاہ میں جاسکتے تھے۔‘‘