قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابٌ: هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الجَاهِلِيَّةِ، وَيُتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجِدَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: لِقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلاَةِ فِي القُبُورِ وَرَأَى عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّي عِنْدَ قَبْرٍ، فَقَالَ: «القَبْرَ القَبْرَ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالإِعَادَةِ»

434. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ فَنَزَلَ أَعْلَى المَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الغَنَمِ، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ المَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَقَالَ: «يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا»، قَالُوا: لاَ وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ قُبُورُ المُشْرِكِينَ، وَفِيهِ خَرِبٌ وَفِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ المُشْرِكِينَ، فَنُبِشَتْ، ثُمَّ بِالخَرِبِ فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ المَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ الحِجَارَةَ، وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالمُهَاجِرَهْ»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خدا یہودیوں پر لعنت کرے کہ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا اور قبروں میں نماز مکروہ ہونے کا بیان۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے انس بن مالک ؓ کو ایک قبر کے قریب نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ قبر ہے قبر! اور آپ نے ان کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔

434.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ (جب ہجرت کر کے) مدینہ تشریف لائے تو عمرو بن عوف نامی قبیلے میں پڑاؤ کیا جو مدینے کی بالائی جانب واقع تھا، نبی ﷺ نے ان لوگوں میں چودہ شب قیام فرمایا، پھر آپ نے بنونجار کو بلایا تو وہ تلواریں لٹکائے ہوئے آ پہنچے (حضرت انس ؓ  کہتے ہیں: ) گویا میں نبی ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں، ابوبکر صدیق آپ کے ردیف اور بنونجار کے لوگ آپ کے گرد ہیں، یہاں تک کہ آپ نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے گھر سامنے اپنا پالان ڈال دیا۔ آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جس جگہ نماز کا وقت ہو جائے وہیں پڑھ لیں، حتی کہ آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ پھر آپ نے مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر فرمایا: ’’اے بنو نجار! تم اپنا یہ باغ ہمارے ہاتھ بیچ دو۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: ایسا نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میں تمہیں بتاؤں کہ اس باغ میں کیا تھا، وہاں مشرکوں کی قبریں، پرانے کھنڈرات اور کھچ کھجوروں کے درخت تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے مطابق مشرکین کی قبریں اکھاڑ دی گئیں، کھنڈرات ہموار کر دیے گئے اور کھجوروں کے درخت کاٹ کر ان کی لکڑیوں کو مسجد کے سامنے نصب کر دیا گیا۔ (اس وقت قبلہ بیت المقدس تھا) اور اس کی بندش پتھروں سے کی گئی، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رجز پڑھتے ہوئے پتھر لانے لگے۔ نبی ﷺ بھی ان کے ہمراہ تھے اور آپ بھی اس وقت یہ رجز پڑھتے تھے: ’’اے اللہ! بھلائی تو بس آخرت کی بھلائی ہے۔ اس لیے تو مہاجرین اور انصار کو معاف فر دے۔‘‘