قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الفَرَائِضِ (بَابٌ: الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

6809. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ

مترجم:

6809.

سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عتبہ اپنے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چنانچہ فتح مکہ کے سال حضرت سعد ؓ نے اسے لینا چاہا اور کہا: یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے متعلق وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ ؓ کھڑے ہوئے اور کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے نیز اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں اپنا معاملہ نبی ﷺ کے پاس لے گئے تو حضرت سعد ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے جبکہ اس نے مجھے اس کے متعلق وصیت بھی کی تھی۔ حضرت عبد بن زمعہ ؓ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے نبی ﷺ نے (بیانات سن کر) فرمایا: ”اے عبدالرحمن بن زمعہ! یہ تمہارے پاس رہے گا۔ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر وہ پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“ پھر آپ نے ام المومنین سیدہ سوده بنت زمعہ ؓ سے فرمایا: ”اس سے پردہ کیا کرو۔“ اس وجہ سے کہ آپ نے اس کی مشابہت عتبہ سے دیکھی چنانچہ اس لڑکے نے پھر سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ کو نہ دیکھا حتیٰ کہ فوت ہو گیا۔