قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحِيَلِ (بَابٌ: فِي الزَّكَاةِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَأَنْ لاَ يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلاَ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ

7020. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصِّيَامِ قَالَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الزَّكَاةِ قَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ فِي عِشْرِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ حِقَّتَانِ فَإِنْ أَهْلَكَهَا مُتَعَمِّدًا أَوْ وَهَبَهَا أَوْ احْتَالَ فِيهَا فِرَارًا مِنْ الزَّكَاةِ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ

مترجم:

ترجمۃ الباب:

آنحضرتﷺ نے فرمایا زکوٰۃ کے ڈر سے جو مال اکٹھا ہو اسے جدا جدا نہ کریں اور جو جدا جدا ہو اسے اکٹھا نہ کریں۔

7020.

حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بایں حالت حاضر ہوا کہ اسکے بال پرگنداہ تھے۔ اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ اللہ تعالٰی نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(دن رات میں) پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ ہاں، اگر نوافل پڑھو تو الگ بات ہے“ اس نے عرض کی: اللہ تعالٰی نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نےفرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے فرض کیے ہیں الا یہ کہ تم نفل روزے رکھ لیا کرو۔“ اس نے عرض کی: اللہ تعالٰی نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ آپ ﷺ نے اسے زکاۃ کے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس (دیہاتی) نے کہا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ عزت بخشی ہے! اللہ تعالٰی نے مجھ پر جو فرض کیا ہے میں اس سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ اس میں کسی کمی کا مرتکب ہوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے صحیح کہا ہے تو نجات پا گیا۔ یا فرمایا: ”جنت میں داخل ہو گیا۔“ بعض لوگوں نے کہا: ایک سو بیس اونٹوں میں دو حقے دینے پڑتے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹوں کو دانستہ ہلاک کر دیا یا کسی کو ہبہ کر دیے یا زکاۃ سے فرار کرتے ہوئے کوئی حیلہ کیا تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔