قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23])

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

7510. حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ قَيَّامُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْقَيُّومُ الْقَائِمُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَأَ عُمَرُ الْقَيَّامُ وَكِلَاهُمَا مَدْحٌ

مترجم:

7510.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب رات کے وقت تہجد کی نماز پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد وثنا ہے، تو آسمان وزمین کو تھامنے والا ہے۔ تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے۔ تو آسمان وزمین اور جوان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اور تو ہی ہر قسم کی تعریف کی سزاوار ہے۔ توآسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو روشن کرنے والا ہے۔ تو سچا تیری بات سچی، تیرا وعدہ مبنی برحقیقت اور تیری ملاقات بھی حقیقت ہے، جنت سچ، دوذخ برحق اور قیامت بھی مبنی برحقیقت ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے حضور سر تسلیم خم کر دیا، میں تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بھروسا کیا۔ تیرے پاس ہی اپنے جھگڑے لے گیا اور تیری ہی مدد سے میں نے مقابلہ کیا۔ اے اللہ! مجھے معاف کر دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں کروں گا اور وہ گناہ بھی جو چھپ کر کیے، نیز وہ بھی جو علانیہ کیے اور وہ گناہ بھی جو بخش دے جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ قیس بن سعد ابو زبیر نے امام طاؤس کے حوالے سے (قیم کے بجائے) قیام بیان کیا ہے۔ امام مجاہد نے کہا: قیوم وہ ہے جو پر چیز کی نگرانی کرنے والا ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قیام پڑھا ہے۔ قیوم اور قیام دونوں مدح کے لیے ہیں۔