قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ: يَهْوِي بِالتَّكْبِيرِ حِينَ يَسْجُدُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ نَافِعٌ: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ»

815. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ المَكْتُوبَةِ، وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر ؓ ( سجدہ کرتے وقت ) پہلے ہاتھ زمین پر ٹیکتے، پھر گھٹنے ٹیکتے۔اس تعلیق کو ابن خزیمہ اور طحاوی نے موصولاً ذکر کیا ہے۔ امام مالک کا یہی قول ہے۔ لیکن باقی تینوں اماموں نے یہ کہاہے کہ پہلے گھٹنے ٹیکے پھر ہاتھ زمین پر رکھے۔ نووی نے کہا دلیل کی رو سے دونوں مذہب برابر ہیں اور اسی لیے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت یہ ہے کہ نمازی کو اختیار ہے، چاہے گھٹنے پہلے رکھے چاہے ہاتھ۔ اور ابن قیم نے وائل بن حجر کی حدیث کو ترجیح دی ہے، جس میں مذکور ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سجدہ کرنے لگتے تو پہلے گھٹنے زمین پر رکھتے پھر ہاتھ ( مولانا وحید الزماں مرحوم )درست یہ ہے کہ حدیث ابوہریرہ راجح اور اصح ہے جو مسلم میں موجود ہے اور اس میں ہاتھ پہلے اور گھٹنے بعد میں ٹیکنے کا مسئلہ بیان ہے۔

815.

ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے، خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل، ماہ رمضان میں بھی اور اس کے علاوہ بھی۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ أکبر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے، پھر (رکوع سے اٹھتے وقت) سمع الله لمن حمده کہتے۔ بعد ازاں سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولك الحمد کہتے۔ اس کے بعد جب سجدے کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب سجدوں سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھ کر اٹھتے تو بھی اللہ اکبر کہتے۔ الغرض ہر رکعت میں اسی طرح کرتے تاآنکہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ جب اپنی نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب سے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ بےشک یہی آپ کی نماز ہوتی تھی تاآنکہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔