قسم الحديث (القائل): موقوف ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَرْضِ الخُمُسِ (بَابُ بَرَكَةِ الغَازِي فِي مَالِهِ حَيًّا وَمَيِّتًا، مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَوُلاَةِ الأَمْرِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

2897. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ، أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الجَمَلِ دَعَانِي، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ: يَا بُنَيِّ، إِنَّهُ لاَ يُقْتَلُ اليَوْمَ إِلَّا ظَالِمٌ أَوْ مَظْلُومٌ، وَإِنِّي لاَ أُرَانِي إِلَّا سَأُقْتَلُ اليَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى يُبْقِي دَيْنُنَا مِنْ مَالِنَا شَيْئًا؟ فَقَالَ: يَا بُنَيِّ بِعْ مَالَنَا، فَاقْضِ دَيْنِي، وَأَوْصَى بِالثُّلُثِ، وَثُلُثِهِ لِبَنِيهِ - يَعْنِي بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ - يَقُولُ: ثُلُثُ الثُّلُثِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا فَضْلٌ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَيْءٌ، فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ ، - قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ، قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ، خُبَيْبٌ، وَعَبَّادٌ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِينَ، وَتِسْعُ بَنَاتٍ -، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ، وَيَقُولُ: «يَا بُنَيِّ إِنْ عَجَزْتَ عَنْهُ فِي شَيْءٍ، فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلاَيَ»، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ: يَا أَبَةِ مَنْ مَوْلاَكَ؟ قَالَ: «اللَّهُ»، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ، إِلَّا قُلْتُ: يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ، فَيَقْضِيهِ، فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا إِلَّا أَرَضِينَ، مِنْهَا الغَابَةُ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ، وَدَارًا بِالكُوفَةِ، وَدَارًا بِمِصْرَ، قَالَ: وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ، أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ، فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ، فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ: «لاَ وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ»، وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ وَلاَ جِبَايَةَ خَرَاجٍ، وَلاَ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، قَالَ: فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ فَكَتَمَهُ؟ فَقَالَ: مِائَةُ أَلْفٍ، فَقَالَ حَكِيمٌ: وَاللَّهِ مَا أُرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَفَرَأَيْتَكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ؟ قَالَ: مَا أُرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي، قَالَ: وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّ مِائَةِ أَلْفٍ، ثُمَّ قَامَ: فَقَالَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ، فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُ مِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لاَ، قَالَ: فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لاَ، قَالَ: قَالَ: فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَكَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا، قَالَ: فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَالمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: كَمْ قُوِّمَتِ الغَابَةُ؟ قَالَ: كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ أَلْفٍ، قَالَ: كَمْ بَقِيَ؟ قَالَ: أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، قَالَ المُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَمْ بَقِيَ؟ فَقَالَ: سَهْمٌ وَنِصْفٌ، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّ مِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ، قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ: اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا، قَالَ: لاَ، وَاللَّهِ لاَ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ: أَلاَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ، قَالَ: فَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَرَفَعَ الثُّلُثَ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ، فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ، وَمِائَتَا أَلْفٍ

مترجم:

2897.

حضرت عبداللہ بن زبیر  ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ جنگ جمل کے دن جب حضرت زبیر ؓ (میدان جنگ میں) کھڑے ہوئے تو انھوں نے مجھے بلایا۔ میں ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا انھوں نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! آج کے دن ظالم یا مظلوم ہی قتل ہوگا اورمیں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم ہی قتل کیا جاؤں گا اور مجھے زیادہ فکر میرے قرض کی (ادائیگی کی) ہے۔ کیا تمھیں کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟ پھر انھوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! ہمارا مال فروخت کرکے اس سے قرض ادا کردینا۔ انھوں نے اس مال سے ایک تہائی کی وصیت کی اور اس تہائی کے تیسرے حصے کی وصیت اپنے، یعنی عبداللہ بن زبیر  کے بیٹوں کے لیے کی۔ انھوں نے فرمایا کہ وصیت کی تہائی کے تین حصے کرلینا۔ اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کاایک تہائی (تہائی کا تیسرا حصہ) تیرے بچوں کے لیے ہوگا۔ راوی حدیث ہشام نے کہا کہ حضرت عبداللہ ؓ کے کچھ بیٹے حضرت زبیر ؓ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے جیسے خبیب اور عباد۔ اور حضرت زبیر ؓ کے اس وقت نو بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے کہا کہ انھوں نے مجھے اپنا قرض ادا کرنے کی وصیت کی اور کہا: اے میرے لخت جگر! اگرتو قرض ادا کرنے سے عاجز ہوجائے تو میرے مالک ومولا سے مدد طلب کرلینا۔ انھوں (حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ) نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا کہ انھوں نے کیا ارادہ کیا تھا یہاں تک میں نے عرض کیا: ابوجان! آپ کا مولیٰ کون ہے؟ انھوں نے فرمایا: میرا مولیٰ اللہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم!مجھے ان(حضرت زبیر ؓ) کا قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری آئی تو میں نے بایں الفاظ دعا کی: ’’اے زبیر کے مولیٰ! ان کا قرض ادا کردے۔‘‘ تو ادائیگی کی صورت پیدا ہوجاتی تھی، چنانچہ جب حضرت زبیر  ؓ شہید ہوئے تو انھوں نے ترکے میں کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا تھا، صرف زمین کی صورت میں جائیداد چھوڑی تھی، غابہ کی زمین بھی اس میں شامل تھی، گیارہ مکانات مدینہ طیبہ میں تھے۔ دو مکان بصرہ میں، ایک مکان کوفہ میں اور ایک مصر میں تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر  ؓنے بیان کیا کہ ان پر اتنے قرض کی کیفیت یہ تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال بطور امانت رکھنے کے لیے آتا تو حضرت زبیرؓ اس سے کہتے: یہ امانت نہیں بلکہ قرض ہے کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ حضرت زبیرؓ کسی علاقے کے امیر نہیں بنے تھے، نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ انھوں نے کوئی دوسرا عہدہ ہی قبول کیا، البتہ وہ نبی کریم ﷺ حضرت ابوبکر ؓ، حضرت عمر  ؓاورحضرت عثمانؓ کے ہمراہ جہاد کے لیے ضرور جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے کہا: میں نے ان کے ذمے قرض کا حساب کیا تو وہ بائیس لاکھ تھا۔ ایک دن حضرت حکیم بن حزام ؓ عبداللہ بن زبیر ؓ سے ملے تو فرمایا: میرے بھتیجے! میرے بھائی کے ذمہ کتنا قرض ہے؟ حضرت عبداللہ  ؓنے اصل رقم کو چھپا کر کہا کہ ایک لاکھ۔ حضرت حکیم بن حزام  نے کہا: اللہ کی قسم! میرے خیال کے مطابق تمہارے پاس موجود سرمائے سے یہ قرض ادا نہیں ہوسکے گا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر  نے کہا: آپ مجھے بتائیں اگر قرض بائیس لاکھ ہوتو کیا ہوگا؟ انھوں نے فرمایا: پھر تو اتنا قرض تمہاری برداشت سے بھی باہر ہے، بہرحال اگر تم قرض کی ادائیگی سے کبھی عاجز ہوجاؤ تو مجھ سے اس سلسلے میں مدد لے لینا۔ حضرت عبداللہ  ؓنے کہاکہ حضرت زبیر  نے غابہ کی زمین ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی لیکن عبداللہ  نے اسے سولہ لاکھ میں فروخت کیا۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ حضرت زبیر ؓ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ کی زمین میں آکر ہم سے ملاقات کرے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن جعفر  آئے۔ ۔ ۔ ان کا حضرت زبیر ؓ کے ذمے چار لاکھ قرض تھا۔ انھوں نے حضرت عبداللہ سے کہا: اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں لیکن عبداللہ  ؓنے کہا: ایسا نہیں ہوسکتا۔ پھر عبداللہ بن جعفر ؓ نے فرمایا: اگر تم قرض کو موخر کرنا چاہو تو میں اسے موخر کرسکتا ہوں۔ حضرت عبداللہ زبیر  نے کہا: جی نہیں! اس کے بعد عبداللہ بن جعفر ؓ نے کہا: مجھے غابہ کی زمین سے کچھ حصہ دے دو تو عبداللہ بن زبیر ؓ نے کہا کہ آپ کے لیے یہاں سے وہاں تک کا قطعہ ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت زبیر ؓ کی جائیداد فروخت کرکے ان کا قرض ادا کردیا گیا۔ جب تمام قرض کی ادائیگی ہوگئی تو ابھی غابہ کی جائیداد میں سے ساڑھے چار حصے باقی تھے جو فروخت نہیں ہوئے تھے۔ تب وہ (عبداللہ بن زبیر ؓ) حضرت معاویہ  ؓکے پاس آئے تو وہاں عمرو بن عثمان، منذر بن زبیر  ؓاور ابن زمعہ بھی موجود تھے۔ حضرت معاویہ  ؓنے دریافت کیا کہ غابہ کی کتنی قیمت لگی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ ہر حصے کی قیمت ایک لاکھ طے ہوئی ہے۔ حضرت امیر معاویہ  ؓنے کہا: کتنا باقی رہ گیا ہے؟ حضرت عبداللہ ؓ نے کہا: ساڑھے چار حصے باقی رہ گئے ہیں۔ حضرت منذر بن زبیر نے کہا: میں ایک حصہ ایک لاکھ میں لیتا ہوں۔ عمرو بن عثمان نے کہا: دوسرا حصہ میں ایک لاکھ میں رکھ لیتا ہوں۔ ابن زمعہ گویا ہوئے: تیسرا حصہ میں نے ایک لاکھ میں خرید لیا۔ حضرت معاویہ  ؓنے فرمایا: اب کتنا باقی رہا؟ عبداللہ نے کہا: اب ڈیڑھ حصہ باقی رہ گیا ہے تو انھوں نے فرمایا: وہ میں نے ڈیڑھ لاکھ میں خریدا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنا حصہ امیر معاویہ ؓ کے ہاتھ چھ لاکھ میں فروخت کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر  ؓجب اپنے والد گرامی کا قرض ادا کرکے فارغ ہوئے تو حضرت زبیر  کے دوسرے بیٹوں نے کہا کہ اب ہماری وراثت ہم میں تقسیم کردیں تو حضرت عبداللہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم!میں تم میں وراثت تقسیم نہیں کروں گا حتیٰ کہ ایام حج میں چار سال تک یہ اعلان نہ کرتا رہوں کہ جس شخص کا حضرت زبیر ؓ کے ذمے کچھ قرض ہے وہ ہمارے پاس آئے ہم اسے قرض ادا کریں گے، چنانچہ حضرت عبداللہ  ہر سال حج کے موقع پر اعلان کرتے رہے۔ جب چار سال گزر گئے تو انھوں نے ان کی جائیداد ورثاء میں تقسیم کی۔ حضرت زبیر  کی چار بیویاں تھیں۔ وصیت کی ایک تہائی علیحدہ کرنے کے بعد ہر بیوی کو بارہ لاکھ ملے۔ اس طرح حضرت زبیر ؓ کے تمام ترکے کی مالیت پانچ کروڑ دو لاکھ تھی۔