قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ: الزَّكَاةِ مِنَ الإِسْلاَمِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ القَيِّمَةِ﴾ [البينة: 5]

44.  حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ، يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلاَ يُفْقَهُ مَا يَقُولُ، حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي اليَوْمِ وَاللَّيْلَةِ». فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لاَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ». قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَصِيَامُ رَمَضَانَ». قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: «لاَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ». قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لاَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ». قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ.»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور اللہ پاک نے فرمایا : ’’حالانکہ ان کافروں کو یہی حکم دیا گیا کہ خالص اللہ ہی کی بندگی کی نیت سے ایک طرف ہو کر اسی اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی پختہ دین ہے۔‘‘

44.

حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا بیان ہے کہ اہل نجد سے ایک شخص پراگندہ مو (بال) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سن رہے تھے مگر یہ نہ سمجھتے تھے کہ کیا کہتا ہے تا آنکہ وہ نزدیک آ پہنچا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ان کے علاوہ (بھی) مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں، مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے پڑھے۔‘‘ (پھر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ اس نے عرض کیا: اور تو کوئی روزہ مجھ پر فرض نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے رکھے۔‘‘ حضرت طلحہؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکاۃ کا بھی ذکر کیا۔ اس نے کہا: مجھ پر اس کے علاوہ (کوئی اور صدقہ بھی) فرض ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے دے۔‘‘ حضرت طلحہؓ نے کہا: پھر وہ شخص یہ کہتا ہوا پیچھے ہٹا، اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ یا کم نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو کامیاب ہو گیا۔‘‘