قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطَّلاَقِ (بَابُ تُحِدُّ المُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ الزُّهْرِيُّ:لاَ أَرَى أَنْ تَقْرَبَ الصَّبِيَّةُ المُتَوَفَّى عَنْهَا الطِّيبَ، لِأَنَّ عَلَيْهَا العِدَّةَ

4919. قَالَتْ زَيْنَبُ، فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى المِنْبَرِ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

زہری نے کہا کہ کم عمر لڑکی کا شوہر بھی اگر انتقال کر گیا ہو تو میں اس کے لیے بھی خوشبو کا استعمال جائز نہیں سمجھتا کیونکہ اس پر بھی عدت واجب ہے ۔ 

4919.

سیدہ زینب بنت ابو سلمہ‬ ؓ ن‬ے کہا: میں ام المومنین سیدہ زینب بنت حجش ؓ کے پاس گئی جس وقت ان کے بھائی فوت ہوئے تھے تو انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور اسے استعمال کیا پھر فرمایا : اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی چنداں ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ منبر پر کھڑے فرما رہے تھے: ”جو عورت اللہ اور قیامت پر یقین رکھتی ہے اسے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے صرف شوہر کے لیے چار ماہ دس دن سوگ ہے۔“