قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ (بَابُ وَقْتِ العِشَاءِ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ أَوْ تَأَخَّرُوا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

532. حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالهَاجِرَةِ، وَالعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ، وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ»

مترجم:

532.

حضرت محمد بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے نبی ﷺ کی نمازوں کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: نبی ﷺ ظہر کی نماز عین دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھ لیتے کہ سورج ابھی تاب دار (روشن) ہوتا، نماز مغرب غروب آفتاب کے فورا بعد پڑھ لیتے اور عشاء کی نماز کے لیے اگر اکثر مقتدی آ جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر حاضرین کی تعداد کم ہوتی تو مؤخر کر دیتے اور نماز صبح اندھیرے میں پڑھتے تھے۔