قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ اخْسَأْ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

6173.02. قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: خَسَأْتُ الكَلْبَ: بَعَّدْتُهُ {خَاسِئِينَ} [البقرة: 65]: مُبْعَدِينَ

مترجم:

6173.02.

حضرت سالم ؓ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے مجعے میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالٰی کے شایان شان تعریف کرنے کے بعد آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: تمہیں اس کے بارے میں خبردار کرتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے متنبہ نہ کیا ہو۔ بلاشبہ نوح ؑ نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں تمہیں اس کی ایک ایسی نشانی بناتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی یقین کرو کہ دجال کانا ہوگا جبکہ اللہ تعالٰی ایک چشم نہیں ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری ؓ ) کہتے ہیں کہ خساتُ الکلبَ کے معنیٰ ہیں: میں نے کتے کو دور کیا۔ قرآن مین ہے (خاشین) جس کے معنیٰ ہیں: اللہ کی رحمت سے دور کیے ہوئے۔