قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَنِ اسْتَعَدَّ الكَفَنَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّﷺ فَلَمْ يُنْكَرْ عَلَيْهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

1218. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ، فِيهَا حَاشِيَتُهَا»، أَتَدْرُونَ مَا البُرْدَةُ؟ قَالُوا: الشَّمْلَةُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: نَسَجْتُهَا بِيَدِي فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا، «فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ»، فَحَسَّنَهَا فُلاَنٌ، فَقَالَ: اكْسُنِيهَا، مَا أَحْسَنَهَا، قَالَ القَوْمُ: مَا أَحْسَنْتَ، لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ، وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ، مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ، إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَكُونَ كَفَنِي، قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ

مترجم:

1218.

حضرت سہل ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک عورت نبی کریم ﷺ کے لیے تیار شدہ حاشیہ دار چادر لائی، تمھیں معلوم ہے کہ ’’بردہ‘‘ کیا چیزہے؟ لوگوں نے کہا: چادر کو کہتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ الغرض عورت نے کہا: میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے تیار کیا ہے اور آپ کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اس وقت ضرورت بھی تھی، اس لیے اسے قبول فرما لیا۔ پھر آپ باہر تشریف لائے تو وہ چادر آپ کی ازار تھی۔ ایک شخص نے اسکی تعریف کی اور کہنے لگا: کیا ہی عمدہ چادر ہے یہ مجھے عنائیت کردیجئے۔ لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انتہائی ضرورت کے پیش نظر اسے زیب تن کیا تھا مگر تو نے اسے مانگ لیا ہے اور تجھے علم ہے کہ آپ ﷺ کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا بلکہ اس لیے کہ وہ میرا کفن ہو۔ حضرت سہل ؓ  فرماتے ہیں کہ پھر وہی چادر اس شخص کا کفن بنی۔