قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّهَادَاتِ (بَابُ شَهَادَةِ القَاذِفِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا، وَأُولَئِكَ هُمُ الفَاسِقُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا} [النور: 5] وَجَلَدَ عُمَرُ، أَبَا بَكْرَةَ، وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ، وَنَافِعًا بِقَذْفِ المُغِيرَةِ، ثُمَّ اسْتَتَابَهُمْ، وَقَالَ: «مَنْ تَابَ قَبِلْتُ شَهَادَتَهُ» وَأَجَازَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٌ، وَمُجَاهِدٌ، وَالشَّعْبِيُّ، وَعِكْرِمَةُ، وَالزُّهْرِيُّ، وَمُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، وَشُرَيْحٌ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: «الأَمْرُ عِنْدَنَا بِالْمَدِينَةِ إِذَا رَجَعَ القَاذِفُ عَنْ قَوْلِهِ، فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ، قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ» وَقَالَ الشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ: «إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ جُلِدَ، وَقُبِلَتْ شَهَادَتُهُ» وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: " إِذَا جُلِدَ العَبْدُ ثُمَّ أُعْتِقَ جَازَتْ شَهَادَتُهُ، وَإِنِ اسْتُقْضِيَ المَحْدُودُ فَقَضَايَاهُ جَائِزَةٌ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: " لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ القَاذِفِ وَإِنْ تَابَ، ثُمَّ قَالَ: لاَ يَجُوزُ نِكَاحٌ بِغَيْرِ شَاهِدَيْنِ، فَإِنْ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ مَحْدُودَيْنِ جَازَ، وَإِنْ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ عَبْدَيْنِ [ص:171] لَمْ يَجُزْ، وَأَجَازَ شَهَادَةَ المَحْدُودِ وَالعَبْدِ وَالأَمَةِ لِرُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ «وَكَيْفَ تُعْرَفُ تَوْبَتُهُ» وَقَدْ نَفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّانِيَ سَنَةً وَنَهَى النَّبِيُّ ﷺعَنْ: كَلاَمِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَيْهِ حَتَّى مَضَى خَمْسُونَ لَيْلَةً

2505. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، «أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي غَزْوَةِ الفَتْحِ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَقُطِعَتْ يَدُهَا»، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا، وَتَزَوَّجَتْ، وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مترجم:

ترجمۃ الباب:

تشریح : غرض امام بخاری کی باب اور تفصیلات ذیل سے یہ ہے کہ قاذف اگر توبہ کرے تو آئندہ اس کی گواہی مقبول ہوگی۔ آیت سے یہی نکلتا ہے اور جمہور علماءکا بھی یہی قول ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ توبہ کرنے سے وہ فاسق نہیں رہتا، لیکن اس کی گواہی کبھی مقبول نہ ہوگی۔ بعضوں نے کہا اگر اس کو حد لگ گئی تو گواہی قبول ہوگی حد سے پہلے مقبول نہ ہوگی۔ تفصیلات مذکورہ میں مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے حاکم تھے۔ مذکورہ تینوں شخصوں نے ان کی نسبت بیان کیا کہ انہوں نے ام جمیل نامی عورت سے زنا کیا ہے لیکن چوتھے گواہ زیاد نے یہ بیان کیا کہ میں نے دونوں کو ایک چادر میں دیکھا، مغیرہ کی سانس چڑھ رہی تھی، اس سے زیادہ میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ان تینوں کو حد قذف لگائی۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ قاذف کی گواہی قبول نہیں کرتے تھے۔ لیکن نکاح میں قاذف کی شہادت کو جائز قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ نکاح کا معاملہ بھی کچھ غیراہم نہیں ہے۔ ایک مرد مسلمان کے لیے عمر بھر بلکہ اولاد در اولاد حلال حرام کا سوال ہے۔ لیکن امام صاحب قاذف کی گواہی نکاح میں قبول مانتے ہیں اسی طرح رمضان کے چاند میں بھی قاذف کی شہادت کے قائل ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ ان کا پہلا قول کہ قاذف کی شہادت قابل قبول نہیں وہ قول غلط ہے۔ جس کی غلطی خود ان ہی کے دیگر اقوال صحیحہ سے ہورہی ہے۔ اس باب میں مسلک سلف ہی صحیح اور واجب التسلیم ہے کہ قاذف کی شہادت مقبول ہے۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اور اکثر سلف کا یہ قول ہے کہ قاذف جب تک اپنے تئیں جھٹلائے نہیں اس کی توبہ صحیح نہ ہوگی۔ اور امام مالک کا قول یہ ہے کہ جب وہ نیک کام زیادہ کرنے لگے تو ہم سمجھ جائیں گے کہ اس نے توبہ کی اب اپنے تئیں جھٹلانا ضروری نہیں۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کا میلان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی روایت غزوہ تبوک میں مذکور ہوگی۔ ان سے امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ نکالا کہ قاذف کو سزا ہوجانا بھی یہی توبہ ہے۔ کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی کو اور کعب بن مالک اور ان کے ساتھیوں کو سزا دینے کے بعد توبہ کی تکلیف نہیں دی۔ الفاظ ترجمۃ الباب وقال بعض الناس کے تحت حضرت حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: ہذا منقول عن الحنفیۃ واحتجوا فی رد شہادۃ المحدود باحادیث قال الحفاظ لا یصح منہا شی الخ یعنی یہاں حنفیہ مراد ہیں جن سے یہ منقول ہے کہ قاذف کی شہادت جائز نہیں اگرچہ اس نے توبہ کرلی ہو اس بارے میں انہوں نے چند احادیث سے استدلال کیا ہے، مگر حفاظ حدیث کا کہنا یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی حدیث جو وہ اپنی دلیل میں پیش کرتے ہیں صحیح نہیں ہے۔ ان میں زیادہ مشہور حدیث عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی ہے۔ جس کے لفظ یہ ہیں۔ لاتجوز شہادۃ خائن ولا خائنۃ ولا محدود فی الاسلام اس حدیث کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مثل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے لا یصح یعنی یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اور ابوزرع نے اسے منکر کہا ہے۔ (ترجمہ) اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ نور میں ) فرمایا ، اےسے تہمت لگانے والوں کی گواہی کبھی نہ مانو ، یہی لوگ تو بدکار ہیں ، مگر جو توبہ کرلیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکرہ ، شبل بن معبد ( ان کے ماں جائے بھائی ) اور نافع بن حارث کو حد لگائی مغیرہ پر تہمت رکھنے کی وجہ سے ۔ پھر ان سے توبہ کرائی اور کہا جو کوئی توبہ کرلے اس کی گواہی قبول ہوگی ۔ اور عبداللہ بن عتبہ ، عمر بن عبدالعزیز ، سعید بن جبیر ، طاو¿س ، مجاہد ، شعبی ، عکرمہ ، زہری ، محارب بن دثار ، شریح اور معاو یہ بن قرہ نے بھی توبہ کے بعد اس کی گواہی کو جائز رکھا ہے اور ابوالزناد نے کہا ہمارے نزدیک مدینہ طیبہ میں تو یہ حکم ہے جب قاذف اپنے قول سے پھر جائے اور استغفار کرے تو اس کی گواہی قبول ہوگی اور شعبی اور قتادہ نے کہا جب وہ اپنے تئیں جھٹلائے اور اس کو حد پڑجائے تو اس کی گواہی قبول ہوگی ۔ اور سفیان ثوری نے کہا جب غلام کو حد قذف پڑے اس کے بعد وہ آزاد ہوجائے تو اس کی گواہی قبول ہوگی ۔ اور جس کو حد قذف پڑی ہو اگر وہ قاضی بنایا جائے تو اس کا فیصلہ نافذ ہوگا ۔ اوربعض لوگ ( امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ) کہتے ہیں قاذف کی گواہی قبول نہ ہوگی گو وہ توبہ کرلے ۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بغیر دو گواہوں کے نکاح درست نہیں ہوتا اور اگر حد قذف پڑے ہوئے گواہوں کی گواہی سے نکاح کیا تو نکاح درست ہوگا ۔ اگر دو غلاموں کی گواہی سے کیا تو درست نہ ہوگا اور ان ہی لوگوں نے حد قذف پڑے ہوئے لوگوں کی اور لونڈی غلام کی گواہی رمضان کے چاند کے لیے درست رکھی ہے ۔ اور اس باب میں یہ بیان ہے کہ قاذف کی توبہ کیوں کر معلوم ہو گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو زانی کو ایک سال کے لیے اخراج کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھیوں سے منع کردیا کوئی بات نہ کرے ۔ پچاس راتیں اسی طرح گزریں ۔ ( حالانکہ یہ بھی ایک قسم کی گواہی ہے۔ تو جب محدود فی القذف کی گواہی حنفیہ نے ناجائز رکھی ہے تو اس کو کیو ںجائز رکھتے ہیں )

2505.

حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے فتح مکہ کے موقع پر چوری کی تو اسے رسول اللہ ﷺ کے حضور پیش کیا گیا، چنانچہ آپ کے حکم پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اُم المومنین حضرت عائشہ  ؓ کے بیان کے مطابق اس عورت نے اچھی توبہ کی۔ پھر اس نے نکاح کرلیا۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیتی تھی۔