قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَشْرِبَةِ (بَابٌ: الخَمْرُ مِنَ العَسَلِ، وَهُوَ البِتْعُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ مَعْنٌ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، عَنِ الفُقَّاعِ، فَقَالَ: «إِذَا لَمْ يُسْكِرْ فَلاَ بَأْسَ» وَقَالَ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ: سَأَلْنَا عَنْهُ فَقَالُوا: «لاَ يُسْكِرُ، لاَ بَأْسَ بِهِ»

5265. وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلاَ فِي المُزَفَّتِ» وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يُلْحِقُ مَعَهَا: «الحَنْتَمَ وَالنَّقِيرَ»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

میں نے حضرت امام مالک بن انس سے ” فقاع “ ( جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور ابن الدراوردی نے بیان کیا کہ ہم نے اس کے متعلق پوچھا تو کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔تشریح : بتع شہد کی وہ شراب ہے جو ملک یمن میں بہت زیادہ رائج تھی۔ اس کا پینا بھی حرام کردیا گیا۔ فقاع وہ شراب ہے جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی۔

5265.

سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کدو اور تارکول کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ۔“ سیدنا ابو ہریرہ ؓ ان دو برتنوں کے ساتھ روغنی مرتبان اور کھجور کے تنے کو کھود کر تیار کردہ برتن کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔