قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ مَنْ ضَرَبَ دَابَّةَ غَيْرِهِ فِي الغَزْوِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

2759. حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو المُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ - قَالَ أَبُو عَقِيلٍ: لاَ أَدْرِي غَزْوَةً أَوْ عُمْرَةً - فَلَمَّا أَنْ أَقْبَلْنَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيُعَجِّلْ»، قَالَ جَابِرٌ: فَأَقْبَلْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ لِي أَرْمَكَ لَيْسَ فِيهِ شِيَةٌ، وَالنَّاسُ خَلْفِي، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جَابِرُ اسْتَمْسِكْ»، فَضَرَبَهُ بِسَوْطِهِ ضَرْبَةً، فَوَثَبَ البَعِيرُ مَكَانَهُ، فَقَالَ: «أَتَبِيعُ الجَمَلَ؟»، قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَدِمْنَا المَدِينَةَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَسْجِدَ فِي طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ وَعَقَلْتُ الجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ البَلاَطِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا جَمَلُكَ، فَخَرَجَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ وَيَقُولُ: «الجَمَلُ جَمَلُنَا»، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «أَعْطُوهَا جَابِرًا» ثُمَّ قَالَ: «اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «الثَّمَنُ وَالجَمَلُ لَكَ»

مترجم:

2759.

حضرت جابر بن عبد اللہ  ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر کیا۔ ۔ ۔ (راوی حدیث) ابو عقیل کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں وہ سفر جہاد کا تھا یا عمرے کا۔ ۔ ۔ جب ہم فارغ ہو کر واپس ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جاسکتا ہے۔‘‘ حضرت جابر  ؓنے کہا: پھر جب ہم آگے بڑھے۔ میں اپنے ایک بے داغ سیاہی مائل سرخ اونٹ پر سوار تھا۔ لوگ میرے پیچھے رہ گئے تھے۔ میں ایسی حالت میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک میرا اونٹ رک گیا۔ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’جابر!اسے روک لو۔‘‘ آپ نے اسے اپنا کوڑا مارا تو وہ اچھل کر چلنے لگا۔ آپ نے پوچھا: ’’جابر!کیا تم اپنا اونٹ (مجھے) فروخت کروگے؟‘‘ میں نے عرض کیا: ہاں۔ جب ہم مدینہ پہنچے اور نبی ﷺ اپنے اصحاب کے ہمراہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ کی خدمت میں پہنچا اور مسجد کے سامنے ایک میدان کے کنارے اپنا اونٹ باندھ دیا اور آپ ﷺ سے کہا: یہ آپ کا اونٹ ہے۔ آپ باہرتشریف لائے اور اونٹ کے ارد گرد چکر لگا کر فرمایا: ’’اونٹ تو ہمارا ہی ہے۔‘‘ پھر نبی ﷺ نے چند اوقیے سونا بھیجا اور فرمایا: ’’یہ جابر کو دے دو۔‘‘ پھر دریافت فرمایا: ’’تمھیں اس کی پوری قیمت مل گئی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’یہ قیمت اور اونٹ دونوں تمھارے ہیں۔‘‘