قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي القِبْلَةِ، وَمَنْ لَمْ يَرَ الإِعَادَةَ عَلَى مَنْ سَهَا، فَصَلَّى إِلَى غَيْرِ القِبْلَةِ )

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَدْ سَلَّمَ النَّبِيُّ ﷺ فِي رَكْعَتَيِ الظُّهْرِ، وَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ ثُمَّ أَتَمَّ مَا بَقِيَ»

402. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الكَعْبَةِ»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی دو رکعت کے بعد ہی سلام پھیر دیا۔ اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو گئے، پھر ( یاد دلانے پر ) باقی نماز پوری کی۔تشریح : یہ ایک حدیث کا حصہ ( ٹکڑا ) ہے جسے خود حضرت امام بخاری نے روایت کیاہے۔ مگراس میں آپ کا لوگوں کی طرف منہ کرنے کا ذکرنہیں ہے اوریہ فقرہ مؤطا امام مالک کی روایت میں ہے۔ اس حدیث سے ترجمہ باب اس طرح نکلا کہ جب آپ نے بھولے سے لوگوں کی طرف منہ کرلیا تو قبلہ کی طرف آپ کی پیٹھ ہوگئی، باوجود اس کے آپ نے نماز کو نئے سرے سے نہیں لوٹایا بلکہ جو باقی رہ گئی تھی اتنی ہی پڑھی۔

402.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والا آیا اور اس نے اطلاع دی کہ آج رات رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے اور اس میں آپ کو استقبال کعبہ کا حکم دے دیا گیا ہے، لہذا تم بھی کعبے کی طرف اپنا رخ کر لو، چنانچہ وہ (سنتے ہی) کعبے کی طرف گھوم گئے جب کہ اس وقت ان کا رخ شام کی طرف تھا۔