قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَرْضَى (بَابُ وَضْعِ اليَدِ عَلَى المَرِيضِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

5446. حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ: تَشَكَّيْتُ بِمَكَّةَ شَكْوًا شَدِيدًا، فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَتْرُكُ مَالًا، وَإِنِّي لَمْ أَتْرُكْ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً، فَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي وَأَتْرُكُ الثُّلُثَ؟ فَقَالَ: «لاَ» قُلْتُ: فَأُوصِي بِالنِّصْفِ وَأَتْرُكُ النِّصْفَ؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: فَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي - فِيمَا يُخَالُ إِلَيَّ - حَتَّى السَّاعَةِ

مترجم:

5446.

سیدہ عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ان کے والد گرامی نے کہا: میں مکہ مکرمہ میں سخت بیمار ہو گیا تو نبی ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں مال چھوڑ رہا ہوں اور میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔ اسکے علاوہ میرا کوئی دوسرا (وارث) نہیں کیا میں دو تہائی مال کی وصیت کر سکتا ہوں اور ایک تہائی اس کے لیے چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔“ میں نے عرض کی: پھر نصف ترکہ کی وصیت کر دوں اور نصف رہنے دوں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ بھی نہ کرو۔“ میں نے پھر عرض کی: میں ایک تہائی کی وصیت کر دوں اور دو تہائی رہنے دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ ایک تہائی کی وصیت کر سکتے ہو لیکن یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک میری پیشانی ہر رکھا پھر میرے چہرے اور پیٹ پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرا اور فرمایاَ ”اے اللہ! سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت مکمل کر دے۔“ (حضرت سعد فرماتے ہیں) جب مجھے خیال آتا ہے آپ ﷺ کے دست مبارک کی ٹھنڈک میں اپنے جگر میں اب تک محسوس کرتا ہوں۔