قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ (بَابُ الدُّعَاءِ بِرَفْعِ الوَبَاءِ وَالوَجَعِ)

تمہید کتاب عربی

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

6146. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ، مِنْ شَكْوَى أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى المَوْتِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الوَجَعِ، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: فَبِشَطْرِهِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ» قُلْتُ: أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ البَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ» قَالَ سَعْدٌ: رَثَى لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ

مترجم:

6146.

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حجتہ الوادع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میری اس بیماری نے مجھے موت کے قریب کر دیا تھا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ میں صاحب ثروت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی میری وارث ہے۔ کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے عرض کی: اپنا نصف مال دے دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے عرض کی: ایک تہائی دے سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی بہت ہے۔ اگر تم ورثاء کو مال دار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یقیناً تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اگر اس سے مقصود اللہ کی رضا ہوئی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو گے تو اس بھی ثواب ملے گا۔“ میں نے پوچھا: کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: اگر تم پیچھے چھوڑ دیے جاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے مقصود اللہ کی رضا ہو تو تمہارا مرتبہ اور درجہ مزید بلند ہوگا امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ قومیں تم سے نفع حاصل کریں گی جبکہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے نقصان میں رہیں گے۔ ”اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو بار آور کر دے اور انہیں الٹے پاؤں نہ پھیرنا۔ البتہ مجھے سعد بن خولہ ؓ کا بہت افسوس ہے۔“ حضرت سعد ؓ نے کہا: آپ ﷺ نے ان پر اظہار افسوس اس لیے کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ مکرمہ میں ہوگیا تھا۔