قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: کِتَابُ العِيدَيْنِ (بَابُ المَشْيِ وَالرُّكُوبِ إِلَى العِيدِ، وَالصَّلاَةِ قَبْلَ الخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

947. وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ بَعْدُ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَتَرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ فَيُذَكِّرَهُنَّ حِينَ يَفْرُغُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ أَنْ لَا يَفْعَلُو

مترجم:

947.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے، پہلے نماز پڑھی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ جب نبی ﷺ خطبے سے فارغ ہوئے تو اتر کر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت فرمائی جبکہ آپ نے حضرت بلال ؓ کے ہاتھ کا سہارا لیا ہوا تھا اور بلال اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، عورتیں اس میں اپنے صدقات ڈال رہی تھیں۔ (راوی حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے حضرت عطاء سے کہا کہ اب بھی آپ امام کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ان کی ذمہ داری تو ہے لیکن اب انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔