قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ (بَابُ الزَّكَاةِ)

حکم : صحیح 

5028. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْهَمُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنْ الْإِسْلَامِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ

مترجم:

5028.

حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے فرمایا: ایک آدمی نجد کے علاقے سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی آواز کی بھنبھناہٹ تو سنائی دیتی تھی مگر اس کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی حتی ٰ کہ وہ قریب آگیا تو پتہ چلا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: ”ہر دن رات میں پانچ نمازیں۔“ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ کوئی اور نماز بھی مجھ پر فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو خوشی سے پڑھے۔“ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: اور ماہ رمضان المبارک کے روزے۔“ اس نے کہا:کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزے فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ خوشی سے کرے۔“ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سامنے زکاۃ کا بھی ذکر فرمایا۔ اس نے کہا: اس کے علاوہ بھی کوئی مالی چیز(صدقہ) مجھ پرفرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں الا یہ کہ تو نفل صدقہ کرے۔“ وہ آدمی واپس جانے لگا تو کہہ رہا تھا: میں نہ اس سے زیادہ کروں گانہ کم۔رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ”اگر یہ آدمی اپنی بات پر لگا رہا تو کامیاب ہوگیا۔“