قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَذَانِ (بَابُ الِاسْتِهَامِ عَلَى التَّأْذِينِ)

حکم : صحیح 

671. أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا

مترجم:

671.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگ اذان اور صف اول کی فضیلت کو جانتے اور پھر قرعہ اندازی کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ پاتے تو ان کے لیے ضرور قرعہ اندازی کرتے۔ اگر لوگ ظہر کی نماز جلدی (اوّل وقت میں) پڑھنے کی فضیلت جانتے تو ایک دوسرے سے آگے بھاگتے اور اگر عشاء اور فجر کی فضیلت کو جانتے تو ضرور آتے، خواہ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔