قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقْيَةِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ​)

حکم : صحیح 

2209. حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ الْجَرِيرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتْ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

مترجم:

2209.

ابوسعیدخدری ؓ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ جنوں اورانسان کی نظربدسے پناہ مانگاکرتے تھے ، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اورسورۃ الناس) نازل ہوئیں ، جب یہ سورتیں اترگئیں تو آ پ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑدیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۲۔ اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔