قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابٌ: كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ ﷺوَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6516.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا نُوقِدُ فِيهِ نَارًا، إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالمَاءُ، إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللُّحَيْمِ»

صحیح بخاری:

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: نبی کریم ﷺاور آپ ﷺ کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا کے مزوں سے ان کا علیحدہ رہنا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6516.   سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم پر مہینہ گزر جاتا ہمارا چولہا نہیں جلتا تھا۔ ہم صرف پانی اور کھجوروں پر گزارا کرتے تھے۔ ہاں کبھی کبھار تھوڑا سا گوشت کہیں سے آ جاتا تھا۔